بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سرکاری سکول سےگملےاورپھول گھرلےآنا


سوال

پرنسپل صاحب اورمالی (باغبان)کی اجازت سےسکول سے کچھ پھول اورگملےگھرلےآیاتھا،کیامیرایہ کام جائزتھایانہیں؟

جواب

             سرکاری اموال سےچونکہ اجتماعی مفادوابستہ ہوتےہیں اس لیےکسی شخص کےلیےشرعایہ جائزنہیں کہ اس کو اپنے ذاتی مفادمیں استعمال کرے۔سرکاری مقامات میں زینت اورخوبصورتی کےلیےجوگملےیاپودےلگائےجاتےہیں،ان کی قیمت بھی چونکہ سرکاری خزانہ سےاداہوتی ہے،اس لیے یہ پھول اورگملےسرکارہی کی ملک ہیں اوراس میں کسی مالی یاپرنسپل وغیرہ کی اجازت ملکیت نہ ہونےکی وجہ سےمعتبرنہیں،البتہ اگرکسی شخص نےاپنی طرف سے سکول میں گملےرکھےہوں یاپودےلگائےہوں تواس میں اس کی ملکیت ثابت ہونےکی وجہ سےاس کی اجازت معتبرہوسکتی ہے۔

            لہذاصورت مسئولہ میں جوسرکاری گملےاورپھول گھرلائےگئےہیں لانےوالےپرانہی گملوں اورپھولوں کاواپس کرناضروری ہے۔ان کی قیمت اداکرنےسےذمہ فارغ نہیں ہوگا،البتہ اگرپھول کاپوداایساہوکہ دوبارہ نکالنےسےضائع ہونےکااندیشہ ہوتواس کاہم مثل پودایااس کی قیمت سکول کواداکرے۔نیزجس پودےکےبارےمیں شک ہوکہ ذاتی ہےیاسکول کاہےتواحتیاط یہی ہےکہ سکول ہی کامتصورکرکےاس کی قیمت اداکی جائے۔

 

وإذا غرس شجرا في أرض موقوفة على الرباط ينظر إن كان الغارس ولي تعاهد هذه الأرض الموقوفة على الرباط فالشجر للوقف وإن لم يول ذلك فالشجرة له وله قلعها۔(الفتاوی الھندیة،كتاب الوقف،الباب الثاني عشرفي الرباطات،ج:2،ص:474)


فتویٰ نمبر : 5070/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور