بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
گھريلو استعمال كے ليے اُگائی گئی سبزیوں میں گزشتہ سالوں کا عشر ادا کرنا
سوال
اگر کوئی شخص گھر سے باہر چار یا پانچ مرلہ کے قریب زمین میں سبزی کاشت کرے جو ندی کے پانی سے سیراب ہوتی ہواورصرف گھر میں استعمال کے لی ے کافی ہوتی ہو تو کیا ایسی فصل میں عشر واجب ہو گا یا نہیں ؟نیز سات ،آٹھ سالوں سے اس کا عشر ادا نہیں کیا ہے اور اب اس کی مقدار بھی معلوم نہیں تو ایسی صورت میں اس شخص سے عشر ساقط ہو گا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ عشر زمین کی ہر پیداوار میں واجب ہوتا ہےخواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ،بہر حال عشر واجب ہو گا۔تاہم اگر گھر میں پھل دار درخت ہوں یا گھر کے احاطے میں سبزیوں کی پیداوار ہوتو ان میں عشر واجب نہیں ہوتا نیزعشر یا نصف عشر جب ایک دفعہ کسی کے ذمہ پر واجب ہو جائیں اور وہ ان کی بروقت ادائیگی نہ کرے تو وہ اس شخص کے ذمہ بدستور باقی رہتی ہیں ،لہذا جب تک ان کی ادائیگی نہ کرے ذمہ فارغ نہیں ہو گا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص صرف گھریلو ضروریات کے لیے گھر کے احاطے سے باہر زمین میں سبزی کاشت کرتا ہو اورزمین سال کے اکثر حصے میں قدرتی آبی وسائل (بارش، ندی، چشمہ وغیرہ) سے سیراب ہوتی ہو تواس میں عشر یعنی کل پیداوار کا دسواں حصہ (دس فی صد) واجب ہو گااور چونکہ سات ،آٹھ سال سے اس پیداوار کا عشرادا نہیں کیا گیا نیز گزشتہ سالوں میں اُگی ہوئی فصل کی مقدار بھی معلوم نہیں تو اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہو گا کہ غالب رائے کے مطابق کاشت کردہ فصل کا عشراد اکرے ۔
قال أبو حنيفة رحمه الله في قليل ما أخرجته الأرض وكثيره العشر۔(الهداية،كتاب الزكوة،باب زكاة الزروع والثمار،ج:1،ص:217)
وإن أكل صاحب المال من الثمر، أو أطعم غيره يضمن عشره ويكون دينا في ذمته۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،فصل في وقت الوجوب،ج:2،ص:518)
والظن الطرف الراجح وهو ترجيح جهة الصواب، والوهم رجحان جهة الخطأ، وأما أكبر الرأي وغالب الظن فهو الطرف الراجح إذا أخذ به القلب، وهو المعتبر عند الفقهاء۔۔۔۔وغالب الظن عندهم ملحق باليقين، وهو الذي يبتنى عليه الأحكام۔(شرح الأشباه والنظائر،الفن الأول،القاعدة الثالثة،ج:1،ص:222،223)