بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
حاملہ بیوی کوطلاق مغلظہ دینا
سوال
اگر کسی شخص نے اپنی حاملہ بیوی کو طلاق مغلظہ دےدی تو کیا حالت حمل میں اس عورت پر طلاق واقع ہو گی یا نہیں ؟ اگر مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے تو پھر اس کی عدت کتنی مدت ہوگی؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے اگر کسی شخص نے حالت حمل میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو اس پر طلاق واقع ہوجاتی ہےکیونکہ حمل وقوع طلاق کے لیے مانع نہیں،لہذااگر شوہر نےحاملہ بیوی کو طلاق مغلظہ دی تو یہ عورت مغلظہ ہو کر ہمیشہ کے لیے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے،اورشرعی حلالہ کے بغیر دوبارہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوتی ، نیز حاملہ مطلقہ کی عدت وضع حمل ہوتی ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص نے حالت حمل میں اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دی ہوتو یہ عورت طلاق مغلظہ کے ساتھ مطلقہ ہوچکی ہے ،البتہ اس کی عدت وضع حمل کے ساتھ ختم ہوگی۔
(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء)۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار،ركن الطلاق، ج:3، ص:232)
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔(الفتاوی الهندية،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل بها، ج:1، ص:443)
وإن كانت حاملا فعدتها أن تضع حملها " لقوله تعالى:(وَأُولاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)۔ الهداية، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2، ص:274)