بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
نذرکی رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا
سوال
ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالی نے اسے بیٹا دے دیا تو اتنی رقم اللہ تعالی کے نام پر دےگا ۔بیٹا پیدا ہونے کے بعد اب مذکورہ رقم مسجد کی تعمیر میں دینا چاہتا ہے،کیا نذر کی رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز ہے؟
جواب
واضح رہےکہ نذر کی رقم صدقات واجبہ میں سے ہے اور ان میں بنیادی شرط تملیک کی ہے،یعنی کسی مستحق زکوۃفقیرکونذر کی رقم کا مالک بنانا ضروری ہےچونکہ مسجد میں خرچ کرنے سے تملیک کی شرط پوری نہیں ہوتی،اس لیے نذر کی رقم بغیر تملیک کےمسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں بلکہ فقرا اورغربا کی ملکیت میں دینے سے نذر کی ادائیگی درست ہو جائے گی۔البتہ اگر کوئی مستحق زکوۃ فقیر نذر کی رقم کا مالک بنےپھروہ اپنی رضامندی سےوہ رقم مسجد کی تعمیرمیں خرچ کرنا چاہےتوخرچ کرسکتاہے۔
(أي مصرف الزكاة والعشر ) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،باب المصرف،ج:3،ص:283)