بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پرائزبانڈ کی خرید و فروخت


سوال

پرائزبانڈ کی خرید وفروخت کرنا درست ہے یا نہیں؟ شرعی دلائل سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

           بعض اوقات حکومت کو قرض کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ لوگوں سے قرض لے کر ان قرضوں کے عوض میں قرض خواہ کو توثیق کے لیے تحریر لکھ دیتے ہیں جس کو بانڈ کہتے ہیں بانڈ کا معنی ہے قرض کا وثیقہ لہذابانڈچونکہ قرض کا وثیقہ ہے اور قرض کی خرید وفروخت جائز نہیں اس لیےنہ بانڈ کے مالک کے لیے  فروخت کرنا جائز ہے؛ کیونکہ یہ غیرمدیون پر دین فروخت کرنا ہے جو کہ ناجائز ہے اور نہ دوسرے لوگوں کے لیے ان بانڈز کا خریدنا جائز ہے۔البتہ اگر کوئی شخص بانڈ خریدنے کے بعد سودی منافع سے جان بچانا چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ کسی شخص سے قیمت اسمی( جتنے کا وہ بانڈ ہے )کے بقدر قرض لے کر قرض کی ادائیگی میں اسے بانڈ دے دے اس طریقہ سے وہ قرض فروخت کرنے سے بھی بچ جائے گا اور اپنی قیمت اسمی بھی وصول کرلےگا ۔‌

 

ولا ‌ينعقد ‌بيع ‌الدين ‌من ‌غير ‌من عليه الدين؛ لأن الدين إما أن يكون عبارة عن مال حكمي في الذمة، وإما أن يكون عبارة عن فعل تمليك المال وتسليمه، وكل ذلك غير مقدور التسليم في حق البائع، ولو شرط التسليم على المديون لا يصح أيضا؛ لأنه شرط التسليم على غير البائع فيكون شرطا فاسدا فيفسد البيع۔( بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج:5، ص:148)


فتویٰ نمبر : 3059/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور