بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

آن لائن کاروبار کی ایک صورت


سوال

 زیدآن لائن کاروبار کرتاہے وہ مارکیٹ  کے دکان داروں  کے واٹس ایپ  گروپ میں شامل ہے  پھر اس نے  اپنا ایک واٹس ایپ گروپ بنایا ہے،جس میں وہ روزانہ کےحساب سے   اشیاء کی تصاویر  اور اس کی قیمت بمعہ پوری تفصیلات کے شیئر کرتا ہے   اس گروپ میں بعض شامل ہونے والے تو خود خریدار ہیں  اور بعض  ریسیلر ہیں ۔1۔زیدمشتری سے براہ راست آرڈر لیتا ہے تو وہ مار کیٹ سے  اشیا منگوا کر  اپنے منافع کے ساتھ (مثلا 1000 کی چیز 1150پر)مشتری کوبھیج دیتا ہے  ۔2۔ اس کے علاوہ جو ری سیلر  آگے فروخت کرتا ہے تو  وہ زید کی بتائی ہوئی    قیمت پر     اپنا نفع رکھ کر اشیا کی تصاویر شیئر کرتا ہے اور آرڈر جب آتا      ہےتو ریسیلر زید کو بتاتا ہے ،زید ریسیلر کی بتائی ہوئی  قیمت پر اصل کسٹمر کو کورئیر  کے ذریعے شئی  بھیج دیتا ہےاور اس  ریسیلر سے اپنا   نفع وصول کرتا ہے۔ تو کیا مذکورہ صورتیں جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            شرعی نقطہ نظر سے خریدوفروخت کے معاملے میں اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ جس چیز کی خریدوفروخت ہورہی ہو وہ عاقدین کےمابین معاملہ طے پاتے وقت بائع(فروخت کنندہ)کی ملکیت میں ہو ، نیز وہ چیز معلوم و متعین ہو اور فروخت کنندہ کے قبضہ میں بھی ہو ، چنانچہ اگر مبیع (جو چیز فروخت کی جا رہی ہو)بیچنے والے کی ملکیت میں نہ ہو، بلکہ محض  تصویر دکھلاکر وہ چیز فروخت کی جائے اور بعد میں وہ چیز کسی اور دکان، سٹور وغیرہ سے خرید کر مشتری (خریدار) کو دی جائے تو یہ صورت بائع کی ملکیت میں مبیع موجود نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ، البتہ اگر اس چیز کو ملکیت و قبضہ میں لانے کے بعد فروخت کیا جائے تو یہ جائز ہوگا۔  

            صورتِ مسئولہ میں فروخت کی جانے والی چیز  بوقتِ فروخت چونکہ  زید اور ری سیلر دونوں کی ملکیت میں نہیں ہوتی ، اس لیے یہ بیع جائز نہیں ،البتہ اس کے جواز کی یہ صورت بن سکتی ہےکہ گاہک سے آرڈر لیتے وقت حتمی معاملہ نہ کیا جائے، بلکہ فروختگی کا وعدہ کیا جائے، پھر وہی چیز متعلقہ دکان دار سے خرید کر خود یا وکیل کے ذریعے قبضہ میں لی جائے پھر کسٹمر سے معاملہ کیا جائےخواہ دوبارہ ایجاب وقبول ہو یا تعاطی کے ذریعے بیع ہوجائے۔

 

 عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَطْلُبُ مِنِّى الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِى أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- :« لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ۔(السنن الكبری للبيهقي ، كتاب البيوع، باب من قال لايجوز بيع الغائبة،ج:8 ص:95)

وَمِنْهَا وهو شَرْطُ انْعِقَادِ الْبَيْعِ لِلْبَائِعِ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكًا لِلْبَائِعِ عِنْدَالْبَيْعِ فَإِنْ لم يَكُنْ لَا يَنْعَقِدْ وَإِنْ مَلَكَهُ بَعْدَ ذلك بِوَجْهٍ من الْوُجُوهِ إلَّا السَّلَمَ خَاصَّةً وَهَذَا بَيْعُ ما ليس عِنْدَهُ وَنَهَى رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم عن بَيْعِ ما ليس عِنْدَ الْإِنْسَانِ وَرَخَّصَ في السَّلَمِ۔۔۔(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم -نهى عن بيع ما لم يقبض۔(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل واماالذي يرجع الی المعقود عليه، ج:7ص:35)


فتویٰ نمبر : 3080/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور