بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اندازے سے زکوۃ اداکرنا


سوال

میری ایک دکان ہے جس میں مختلف قسم کا چھوٹا اور بڑا سامان  فروخت کیا جاتا ہے۔ جب میں زکوۃ کی ادائیگی کے لیے اس سامان کی قیمت کا حساب كرتا ہوں تو تمام سامان کا یقینی طور پر صحیح حساب لگانا مشکل ہوتا ہے لہذا  اگر میں اپنی کوشش کرنے کے بعد بعض سامان میں اندازے سے قیمت لگا کر زکوۃ ادا کروں تو زکوۃ اداہو جائے گی یانہیں ؟

جواب

              واضح رہے  کہ زکوۃ کی ادائیگی میں اصل حکم  یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے حقیقی مقدار کا حساب کرکےزکوۃ نکالی جائے، لیکن جہاں حقیقی مقدار کے معلوم کرنے میں حرج  لازم آتا ہو تو ایسی صورت میں محتاط اندازہ کے مطابق بھی زکوۃ نکالی جاسکتی ہے لیکن اس میں بھی حتی الوسع اندازہ کچھ زیادہ ہی لگایا جائے تاکہ زکوۃ کی ادائیگی میں کمی نہ رہے، کیونکہ کم اندازہ کی صورت میں اس قدر زکوۃ ذمہ پر واجب رہے گی۔

                 صورت مسؤلہ کے مطابق اگرسائل کے لیے یقینی طور پردکان کے مال کی زکوۃ کا حساب لگانا مشکل ہوتو جہاں تک ہوسکے حقیقی مقدار کا حساب کرکےزکوۃ نکالی جائے، لیکن جہاں حقیقی مقدار کے معلوم کرنے میں بہت زیادہ حرج آتا ہو تو ایسی صورت میں محتاط اندازہ کے مطابق بھی زکوۃ نکالی جاسکتی ہے ،لیکن حتی الوسع اندازہ کچھ زیادہ ہی لگایا جائے تاکہ زکوۃ کی ادائیگی میں کمی نہ رہے، کیونکہ کم  زکوۃ ادا کرنے کی صورت  میں بقیہ زکوۃ ذمہ پر واجب رہے گی ۔

 

والظن الطرف الراجح وهو ترجيح جهة الصواب، والوهم رجحان جهة الخطأ، وأما أكبر الرأي وغالب الظن فهو الطرف الراجح إذا أخذ به القلب، وهو المعتبر عند الفقهاء۔۔۔۔وغالب الظن عندهم ملحق باليقين، وهو الذي يبتنى عليه الأحكام۔(شرح الأشباه والنظائر،الفن الأول،القاعدة الثالثة،ج:1،ص:222،223)

لأن غلبة الظن تعمل عمل اليقين في حق وجوب العمل، وإن لم تعمل في حق الاعتقاد كما في التحري في القبلة وكما في دفع الزكاة لمن غلب على ظنه فقره وكما إذا غلب على ظنه نجاسة الماء أو طهارته۔(البحر الرائق،كتاب الطهارة،باب التيمم،ج:1،ص:169)


فتویٰ نمبر : 9212/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور