بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اجنبی عورت کے سینوں کو چھومنے سےحرمتِ مصاہرت


سوال

اگر کوئی شخص بیوہ عورت کی سینوں کو چھومے،تو شرعا اس عورت کی بیٹیاں اس چھومنے والے مرد  پر حرام ہوں گی یا نہیں؟ نیزخود اس مرد کانکاح اس عورت  کے ساتھ  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ جب مشتہاۃ مرد اورعورت ایک دوسرے کو بغیر حائل کے یا ایسے باریک حائل کے ساتھ کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس ہوتی ہو،شہوت کے ساتھ مس کریں  کہ یا  پہلے سے موجود  شہوت میں اضافہ ہوجائے اور ساتھ  ہی اسی ممسوسہ عورت کی طرف  میلان(رغبت جماع)بھی پیداہو جائےتو اس سے  ان کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے اور ان پر ایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہوجاتے ہیں،لیکن اگر بغیرشہوت کے مس کرے یا شہوت کے ساتھ ہو ،لیکن درمیان میں اتنا بڑا حائل موجود ہو کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس نہ ہوتی ہو یا پہلے سے موجود شہوت میں اضافہ نہ ہوا ہو یا اسی عورت کی طرف جماع کا میلان نہ پایا جائےتو پھر حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی،نیز حرمت مصاہرت کے ثبوت میں عامد،ناسی،مکرہ اورخطا کارسب کا حکم برابر ہے۔

          صورت مسئولہ کی مطابق اگر مرد نے مذکورہ اجنبی بیوہ عورت کے سینوں کو بغیر حائل کے شہوت کے ساتھ  چھوما ہو، یا اس چھومنے سے شہوت میں اضافہ ہوگیا ہو، تو اس سے ان کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے،لہذا اس مرد پر بیوہ عورت کی بیٹیاں حرام ہوں گی۔ہاں اگریہ مرد اس عورت کو ساتھ نکاح کرنا چاہے توکرسکتا ہے۔

 

ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب النکاح، الباب الثالث :القسم الثانی المحرمات بالصھریۃ، ج:1 ، ص:340، دارالفکر )

وقال عامة العلماء الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها۔(فتاوی قاضی خان،کتا ب النکاح،باب فی المحرمات،ج:1،ص:317،دارالکتب العلمیۃ)


فتویٰ نمبر : 6452/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور