بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
حلالہ میں خلوتِ صحیحہ کے بعد پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا
سوال
اگر کسی شخص نے بیوی کو طلاق مغلظہ دیا ہو،پھرعدت کے بعد اس عورت نےدوسرے شخص سے نکاح کیا اور وہاں ہمبستری نہ ہوئی ہو بلکہ صرف خلوت صحیحہ ہوئی ہو اور دوسرے شوہر نےطلاق دی ہو تو ایسی صورت میں اس عورت کےساتھ پہلے خاوند کے لیےدوبارہ نکاح کرناجائز ہےیا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سےطلاق مغلظہ کے بعد بیوی پہلےشوہرکے لیے تب حلال ہوسکتی ہے،جب وہ عدت کے بعدباقاعدہ دوسرے شخص سے نکاح کرےاور دوسرا شخص اس سے ہمبستری بھی کرلے، پھر وہ شخص اپنی مرضی سے طلاق دیدےیا اس کا انتقال ہوجائے اور اس کے بعد عدت بھی گزرجائے تو ایسی صورت میں پہلے خاوند کے لیےدوبارہ نکاح کرناجائز ہوتا ہے۔
صورت مسؤلہ کےمطابق اگرکسی شخص کی بیوی نےطلاق مغلظہ کےبعد دوسرے شخص سےنکاح کیااوراس شخص نے صرف خلوت صحیحہ کرلیا لیکن اس عورت کے ساتھ ہمبستری نہیں کی تو چونکہ حلالہ میں ہمبستری شرط ہے لہذا محض خلوت صحیحہ کےبعددوسرے شخص کےطلاق دینےاورعدت گزارنے سے یہ بیوی پہلےشوہرکے لیےحلال نہ ہوگی
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها۔(هداية، فصل فيما تحل به المطلقه، ج:2، ص:257)
(قوله وحلها للأول) أي لا تحل مطلقة الثلاث للزوج الأول بمجرد خلوة الثاني بل لا بد من وطئه لحديث العسيلة(الدرالمختار مع ردالمحتار، مطلب فی حط المهر والإبراء منه، ج:3، ص:119)