بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سوتیلی ماں کی بیٹی سے نکاح کرنا


سوال

عورت نے ایک شخص سے نکاح کیاپھر اس سے ایک بچی پیدا ہوئی جس کے بعد اس کا خاوندفوت ہوا ،خاوند کے فوت ہونے کے بعد  اس عورت نے دیور(خاوند کاحقیقی بھائی) سے نکاح کیا،اور اس دیور کی دوسری بیوی بھی ہے جس سے اس کا ایک بیٹا ہے،اب  یہ دیور کا بیٹا مذکورہ سوتیلی ماں کی اس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے جو اس لڑکے کے حقیقی چچا سے تھی توکیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ نکاح میں اگر کوئی ذریعہ حرمت (قرابت ،مصاہرت ،رضاعت وغیرہ )موجود نہ ہو توشرعاً وہ نکاح جائزہوتا ہے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق مذکورہ عورت  کی بیٹی اور دیور کے لڑکے کے نکاح  میں بظاہر حرمت کی کوئی صورت نہیں ہے،اس لیے یہ نکاح جائز ہے۔

 

وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال۔(الدرالمحتار مع ردالمختار،كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:4، ص:105)


فتویٰ نمبر : 6450/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور