بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

امام کے ساتھ سجدہ سہو میں مسبوق کا عمداً سلام پھیرنا


سوال

 اگرکوئی شخص مسبوق  ہو اورامام کے ساتھ سجدہ سہو کے سلام میں عمداً سلام پھیر دے  تو اس سے نماز ہو جاتی  ہے یا نہیں؟

جواب

             مسبوق پرامام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا لازمی ہے،البتہ اس کے لیےسجدہ سہو کے سلام میں امام کے ساتھ سلام پھیرنا جائز نہیں،لہذااگر کوئی مسبوق  سجدہ سہو کے سلام میں  امام کے ساتھ قصداً سلام پھیر دے تو اس سےاس کی نماز فاسد ہوجائےگی اوراس پر نماز کا اعادہ  کرنا لازم ہوگا۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگرمسبوق شخص نے قصداً سجدہ سہو کے سلام میں امام کے ساتھ سلام پھیر دیا ہو تو اس سےاس کی نماز نہیں ہوئی  ہے لہذا اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے۔   

 

ثم المسبوق إنما يتابع الإمام في السهو دون السلام، بل ينتظر الإمام حتى يسلم فيسجد فيتابعه في سجود السهو لا في سلامه.

وإن سلم فإن كان عامدا تفسد صلاته، وإن كان ساهيا لا تفسد، ولا سهو عليه؛ لأنه مقتد، وسهو المقتدي باطل۔ (بدائع الصنائع، فصل بيان من يجب عليه سجود السهو ومن لا، ج:1، ص:176)


فتویٰ نمبر : 9216/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور