بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 03/11/2026 |
ڈالر ماركيٹ ريٹ سے زياده ادھار پر فروخت کرنا
سوال
ایک شخص کو نقد رقم یا ڈالروں کی ضرورت ہے۔وہ مجھ سے ایک ہزار ڈالر لیتاہےجو مارکیٹ میں تقریبا 2لاکھ کے کم وبیش ملتے ہیں۔ ميں ڈالرمارکیٹ سے خرید کر اس شخص کو دو لاکھ پچاس ہزارپاکستانی روپوں پر چھ مہینے ادھار پر فروخت کرتا ہوں کیا یہ صورت جائز ہے؟
جواب
ایک ہی ملک کی کرنسی کے باہمی تبادلہ کے لیے جانبین میں برابری لازم ہے اور کمی بیشی جائز نہیں جبکہ مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا باہمی تبادلہ کمی زیادتی کے ساتھ بھی جائز ہے چونکہ مروجہ کرنسی ثمن خلقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہے اس لیے مجلس عقد میں دونوں کرنسیوں کے بجائے کسی ایک کرنسی پر قبضہ ضروری ہے تاکہ ادھار کے بدلہ ادھار کی بیع لازم نہ آئے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی ایک ہزار ڈالر(جو مارکیٹ میں دو لاکھ کے کم وبیش ملتے ہیں) دوسرے شخص پر چھ مہینے ادھار پر دولاکھ پچاس ہزار کے عوض فروخت کرے تو جائز ہے،بشرطیکہ خریدنے والا ایک ہزار ڈالر پر مجلس عقد میں قبضہ بھی کرلے۔
وقيد بالذهب والفضة لأنه لو باع فضة بفلوس أو ذهب بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما كذا في الذخيرة وقدمناه عند قوله في باب الربا وصح بيع الفلس بالفلسين۔(البحرالرائق،كتاب الصرف،ج:6،ص:211)
سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة. فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،مطلب في استقراض الدراهم عددا،ج:5،ص:180)