بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بغیرکسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا


سوال

فرض،واجب اور نفل نمازبغیر کسی وجہ یا عذر کے بیٹھ کر پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ فرض اور واجب نماز میں قیام(کھڑا ہونا) فرض ہے، اس لیے بلا عذر فرض اور واجب نماز بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں ہے، جہاں تک نوافل کا مسئلہ ہے تونوافل کھڑے ہوکر ادا کرنا بہتر ہے، تاہم بلاعذر بیٹھ کر ادا کرنا بھی جائز ہے، البتہ بلاعذر بیٹھ کر نوافل ادا کرنے والے کو کھڑے ہو کر ادا کرنے والے کی بنسبت آدھا ثواب ملتا ہے۔اور اگر عذر کی وجہ سے نوافل بیٹھ کر پڑھ لےتوپورا ثواب ملے گا۔

 

(‌ومنها ‌القيام) وهو فرض في صلاة الفرض والوتر. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الفصل الأول في فرائض الصلاة، ج:1، ص:69)

(ويتنفل مع قدرته على القيام قاعدًا) لا مضطجعًا إلا بعذر (ابتداء و) كذا (بناء) بعد الشروع بلا كراهةفي الأصح كعكسه بحر. وفيه أجر غير النبي صلى الله عليه وسلم على النصف إلا بعذر۔ (الدر المختارعلی صدر رد المحتار،‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:36)


فتویٰ نمبر : 9223/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور