بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ويزه فروخت كرنا


سوال

ایک شخص  باہر ملک میں اگر اپنے لیے ویزہ خرید لے تو کیا پاکستان میں اپنے دوست پر یہ  ویزہ بیچ سکتا ہے ؟ 

جواب

         کسی ملک کا ویزہ اس ملک میں داخل ہونے اور وہاں متعین مدت تک ٹھہرنے کا حکومت کی طرف سے اجازت نامہ ہوتا ہے، جو حقوق مجردہ کی فہرست میں داخل ہے ،چونکہ ویزہ کے حصول کے لیے وقت اور مال خرچ کرنا پڑتا ہےاور اس کے حامل کو متعلقہ ملک میں داخلے اور رہنے کا حق حاصل ہوجاتا ہےاور عرف میں یہ حق اعیان (مادی اشیاء)کی طرح ہوگیا ہے اس لیے اس كو فروخت كرنا جائز ہے۔

          صورت مسئولہ میں جب متعلقہ ملک نے ویزہ خود استعمال کرنے یا کسی پر فروخت کرنے کا اختیار دیا ہو، تو اس کو کسی اور پر فروخت کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

 

والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا.(ردالمحتار، کتاب البیوع، مطلب فی تعریف المال والملک والمتقوم، ج:7 ص:10)

وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة. المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتباره وعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال.(الدرالمختار علی صدر رد المحتار،كتاب البيوع ، مطلب في النزول عن الوظائف ، ج:7 ص:35)


فتویٰ نمبر : 3106/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور