بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بالائی اور پنیر نکال کر دہی بیچنے کا حکم


سوال

ہم جب دودھ گرم کرتے ہیں تو اس وقت ہم دودھ کی بالائی اور پنیر نہیں اتارتے بلکہ دہی تیار ہونے کے بعد پنیر اتارتے ہیں اور خالص دہی بیچتے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

             واضح رہے  کہ جب مبیع معلوم ہو اوراس میں کوئی دھوکہ نہ ہویا مشتری  اس  کے خریدنے پر رضامند  ہو تو بائع کے لئے اس کا بیچنا  جائز  ہے۔

            صورت مسؤلہ میں اگرعرف میں  بالائی اور پنیر  اتار کر  دہی بیچا جاتا ہو تو  پھر یہ  جائز ہے ، البتہ اگر عام طور پر پنیر اور بالائی  کو نہ اتارا جاتا ہو اور بیچتے وقت مشتری کو اس کا علم بھی نہ ہو تو یہ دھوکہ کی ایک صورت ہونے کی بنا پر جائز نہ ہوگا ۔

 

عن أبي هريرة قال:نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغرر. (صحیح ابن حبان، ذكر الزجر عن بيع الحمل في البطن، رقم الحدیث: 4951، ج:11، ص:327)

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام. (ردالمحتار، باب خيار العيب، مطلب في جملة ما يسقط به الخيار، ج:5، ص:45)

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام  ،إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان. (ردالمحتار، مطلب في جملة ما يسقط به الخيار،ج:5، ص:47)


فتویٰ نمبر : 3111/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور