بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
حاملہ مزنیہ سے نکا ح اور ثبوت نسب کا حکم
سوال
اگر کسی شخص نےکسی عورت سے زنا کیا ،جس سے وہ حاملہ ہوجائے پھر زانی نے مزنیہ سے نکاح کیا ،نکاح کے سات ماہ بعدبچہ پیدا ہوا ،توکیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ اسی طرح اس بچہ کا نسب اس زانی سے ثابت ہوگا یا نہیں ،نیز یہ بچہ مستحق میراث ہوگا یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روسےاگرکسی شخص نےکسی خاتون سے زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوگئ پھراس زانی نے مزنیہ سے نکاح كيا تو یہ نکاح جائز ہے اور نکاح کے بعد اس سے ہمبستری کرنا بھی جائز ہے۔نیز نکاح کے بعد اگر بچہ کی پیدائش میں چھ ماہ گزر چکے ہوں توایسی صورت میں اس بچہ کانسب اس آدمی سے ثابت ہوگا اورمیراث کے شرعی قانون کے مطابق(باپ کے فوت ہونے کے بعد) یہ بچہ اس آدمی کی میراث کا بھی مستحق ہوگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکسی شخص نےکسی خاتون سے زنا کیا ہو ،جس سے وہ حاملہ ہوگئ پھراس زانی نے مزنیہ سے نکاح کیا اورنکاح کے سات ماہ بعدبچہ پیدا ہوا ہوتوایسی صورت میں یہ نکا ح جائز ہے اور نکاح کے بعد منکوحہ مزنیہ سے ہمبستری کرنا بھی جائز ہے۔اسی طرح اس بچہ کانسب اس آدمی سے ثابت ہوگا اور باپ کے فوت ہونے کے بعدیہ بچہ اس آدمی کی میراث کا بھی مستحق ہوگا۔
إذا تزوج امرأة قد زنى هو بها وظهر بها حبل فالنكاح جائز عند الكل وله أن يطأها عند الكل۔(الفتاوی الهنديۃ، القسم السادس المحرمات التى يتعلق بهاحق، ج:1، ص:280)
ولو زنى بامرأة فحملت، ثم تزوجها فولدت إن جاءت به لستة أشهر فصاعدا ثبت نسبه، وإن جاءت به لأقل من ستة أشهر لم يثبت نسبه إلا أن يدعيه ولم يقل: إنه من الزنا أما إن قال: إنه مني من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه۔(الفتاوی الهنديه، كتاب الطلاق، الباب الخامس عشر في ثبوت النسب، ج:1، ص540)