بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بيوہ کے لیےفوت شدہ خاوند کو دیکھنا اور غسل دینا
سوال
اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہوجائے توبیوہ کے لیےاس کے چہرے کو دیکھنااوراسے غسل دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سےمیاں بیوی میں سےاگرکسی ایک کا انتقال ہوجائے تو ان میں سے ہر ایک کے لیےدوسرے کے چہرے کو دیکھناجائز ہے،نیز بیوہ کے لیےشوہر کو چھونااورغسل دینا بھی جائز ہے،بشرطیکہ خاوند نے زندگی میں بیوہ کو طلاق با ئن یا طلاق مغلظہ دے کرجدا نہ کیا ہو،تاہم شوہر کے لیے فوت شدہ بیوی کوچھونا یاغسل دینا جائز نہیں۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مذکورہ عورت کا شوہر فوت ہوجائےاور زندگی میں خاوند نے بیوہ کو طلاق با ئن یا طلاق مغلظہ دے کرجدا نہ کیا ہو توبیوہ کے لیےاس کے چہرے کو دیکھنااوراسے غسل دینا جائز ہے۔
(ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح)۔۔۔ (وهي لا تمنع من ذلك)…(قوله وهي لا تمنع من ذلك) أي من تغسيل زوجها دخل بها أو لا كما في المعراج ومثله في البحر عن المجتبى.
قلت: أي لأنها تلزمها عدة الوفاة، ولو لم يدخل بها، وفي البدائع: المرأة تغسل زوجها؛ لأن إباحة الغسل مستفادة بالنكاح، فتبقى ما بقي النكاح، والنكاح بعد الموت باق إلى أن تنقضي العدة بخلاف ما إذا ماتت فلا يغسلها لانتهاء ملك النكاح لعدم المحل فصار أجنبيا، وهذا إذا لم تثبت البينونة بينهما في حال حياة الزوج، فإن ثبتت بأن طلقها بائنا، أو ثلاثا ثم مات لا تغسله لارتفاع الملك بالإبانة إلخ (تنويرالأبصار مع ردالمحتار، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:198)