بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ادھار پر نقد قیمت سے زیادہ میں گاڑی فروخت کرنا


سوال

میں نے بیس لاکھ نقد  روپیہ کے عوض  ایک گاڑی خریدی،پھر میں نے اُسےبائیس لاکھ روپیہ کے عوض پانچ ماہ کی مدت پر  ادھار فروخت کیاجب کہ مذکورہ گاڑی کی قیمت فی الحال بیس لاکھ روپیہ ہی ہےتوکیا مذکورہ عقد جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے مبیع کو ادھار پر نقد قیمت سے زیادہ  میں  فروخت کرنا جائز ہے۔تاہم یہ  بات ضروری ہے کہ اجل(مدت) اور ثمن  معلوم ہو،اور بائع اور مشتری کااس پراتفاق ہو، تاکہ بعد میں نزاع کا اندیشہ نہ ہو۔

           صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص نے بیس لاکھ نقد روپیہ کے عوض  گاڑی خریدی ہواورپھر   دوسرے آدمی کوبائیس لاکھ روپیہ کے عوض پانچ ماہ کی مدت پر ادھار فروخت کی ہونیز بائع اور مشتری دونوں اس پر راضی ہوں  تو  شرعاً یہ  عقدجائز  ہے اگرچہ گاڑی کی قیمت فی الحال بیس لاکھ روپیہ ہو۔

 

ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما۔ (الهداية،الباب المدخل، ج:3، ص:21)

لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل۔ (الهداية،الباب المدخل، ج:3، ص:78)


فتویٰ نمبر : 3049/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور