بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

معذور شخص کاصف کے درمیان میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا


سوال

کسی معذور شخص کا صف کے درمیان میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

            ایسا معذور شخص  جس کے لیے شرعا کرسی پر نماز پڑھنے کی اجازت ہو وہ صف کے درمیان  میں اپنی کرسی لگاسکتا ہے،صف کے    کنارے  لگانا ضروری نہیں ہے ،خاص طور پرجب نماز شروع ہوتے وقت چند لوگ ہی ہوں تو کرسی کنارے  پرنہیں لگانا چاہئے،ورنہ صف میں جگہ خالی رہ جائے گی جس سے حدیث شریف میں منع فرمایا گیا ہے،البتہ اگر صف میں خالی جگہ رہنے کا خطرہ نہ ہوتو بہتر یہی ہے کہ  کنارے  پر کرسی رکھ کرجماعت میں شریک ہو،تاکہ پیچھےاور دائیں بائیں جانب والےنمازیوں کو کسی طرح  کی دشواری  نہ ہواورصف ظاہری طور پر بھی سیدھی ہو۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  صف کے درمیان میں کرسی پر بیٹھ کر نمازپڑھنے والے کے لیےبہتریہی ہے کہ وہ صف کے کنارے  کرسی رکھ کر نماز پڑھے جب مقتدیوں کی تعداد زیادہ ہو،تاہم اگر کسی نے صف کے درمیان میں کرسی پر بیٹھ کر نمازپڑھی تو بھی جائز ہے۔

 

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أقيموا الصُفوفَ، وحاذُوا بين المناكِبِ، وسُدُّوا الخَلَلَ، ولينُوا بأيدي إخوانِكم ولا تَذَروا فُرُجاتِ للشَّيطان، ومَن وصلَ صفاً وصلَه اللهُ، ومَن قطعَ صفاً قطعَه الله"۔ (سنن أبي داؤد،باب تسوية الصفوف،ج:2،ص:8،رقم الحديث:666)

قال في المعراج :الأفضل أن يقف في الصف الآخر إذا خاف إيذاء أحد قال عليه الصلاة والسلام من ترك الصف الأول مخافة أن يؤذي مسلما أضعف له أجر الصف الأول وبه أخذ أبو حنيفة ومحمد وفي كراهة ترك الصف الأول مع إمكانه خلاف:أي لو تركه مع عدم خوف الإيذاء وهذا لو قبل الشروع فلو شرعوا وفي الصف الأول فرجة له خرق الصفوف۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،مطلب في الكلام علی الصف الأول،ج:1،ص:569)


فتویٰ نمبر : 9192/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور