بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 03/11/2026 |
ہجرت کے متعلق تحقیق
سوال
ہجرت کب لازم ہے؟ اگر ایک خاندان یا شخص کسی ملک سے دوسرے ملک صرف اپنی جان اور اولاد کی آبرو کے تحفظ کی خاطر ہجرت کرےتو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے کب ان کی ہجرت اختتام کو پہنچے گی؟ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تھی کیا وہ فتح مکہ کے بعد واپس مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تھےاگر نہیں تو کیا وجہ تھی؟
جواب
ہجرت کا لفظی معنی "ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا "اور شرعی اصطلاح میں " اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے وطن کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہونا "ہجرت کہلاتا ہے۔ لہذا جہاں بحیثیت مسلمان کسی شخص کا قیام سخت مشکل ہو، اپنے اور اپنی نسلوں کے دین و ایمان ،جان و مال یا عزت و آبرو کو خطرات درپیش ہوں اور دین پر قائم رہنا ممکن نہ ہو تو وہاں قیام کرنا یا ایسے ملکوں میں جانا باتفاق فقہاکسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ، اسی وجہ سے احادیث مبارکہ میں اپنے دین اور ایمان کی خاطر ایک جگہ سے وسری جگہ ہجرت کرنے کی فضیلت آئی ہے چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ " جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا اگرچہ ایک بالشت ہی کیوں نہ ہو اس کے لیے جنت واجب ہوئی اور اس کو حضرت ابراہیم اور محمد مصطفٰی ﷺ کی رفاقت میسر ہو گی" ۔ علامہ ابن حجرفرماتے ہیں کہ ہجرت کاحکم مطلق نہیں ہے، بلکہ فتنہ کی علت کے ساتھ مربوط ہے، علت موجود ہوگی تو حکم پایا جائے گا، علت نہیں رہے گی توحکم بھی باقی نہ رہے گا، چنانچہ وہ ممالک جہاں دینی اعتبار سے مسلمانوں کے لیے فتنہ نہ ہو وہاں اقامت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اور وہاں مقیم مسلمانوں کے لیے ہجرت واجب نہیں۔
سن 8 ہجری میں جب آپ ﷺ نے مکہ فتح فرمایا تو آپ ﷺمکہ مکرمہ میں کئی دنوں تک ٹھہر گئے جب انصار نے رسول اللہ ﷺ کا قریش کے ساتھ کریمانہ حسن سلوک دیکھا تو انصار کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ﷺمکہ میں اقامت فرمالیں ۔ جب حضور ﷺ کو انصار کے اس خیال کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا :کہ اے انصار"اب تو ہماری زندگی اور وفات تمھارے ساتھ ہی ہے"یہ سن کر فرط مسرت سے انصار کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور سب نے کہا کہ یارسول اللہ ہم لوگوں نے جو کچھ دل میں خیال کیا یا زبان سے کہا اس کا سبب آپ کی ذات مقدسہ کے ساتھ ہمارا جذبہ عشق ہے، کیونکہ آپ کی جدائی کا تصور ہمارے لئے ناقابل برداشت ہو رہا تھا۔
]يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ [وروي عن الحسن عن النبي صلي الله عليه وسلم أنه قال:من فر بدينه من أرض إلى أرض وإن كان إلى شبرا من الارض استوجب الجنة كان رفيق إبراهيم ومحمد عليهما السلام۔(سورة العنكبوت، تفسيرالسمرقندي،ج2،ص638)
حدثنا أبو أسامة، قال: حدثنا سليمان بن المغيرة، قال: ثنا ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح، قال: وفدنا وفودا لمعاوية وفينا أبو هريرة، وذلك في رمضان، فقال: ألا أعلمكم بحديث من حديثكم يا معشر الأنصار، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر الأنصار، قالوا: لبيك يا رسول الله، قال: "قلتم: أما الرجل فأدركته رغبة في قريته ورأفة بعشيرته "، قالوا: قد قلنا ذاك يا رسول الله، قال: فما أسمى إذا، قال:كلا إني عبد الله ورسوله، هاجرت إليكم،"المحيا محياكم والممات مماتكم"،قال: فأقبلوا إليه يبكون ويقولون: والله يا رسول الله، ما قلنا الذي قلنا: إلا الضن بالله ورسوله، قال:فإن الله ورسوله يصدقانكم ويعذرانكم۔(مصنف بن أبی شيبه،کتاب الفضائل،باب فی فضل الانصار،ج7،ص543)
حدثنا عطاء قوله زرت عائشة مع عبيد بن عمير الليثي تقدم في أبواب الطواف من الحج أنها كانت حينئذ مجاورة في جبل ثبير فسألها عن الهجرة أي التي كانت قبل الفتح واجبة إلى المدينة ثم نسخت بقوله لا هجرة بعد الفتح وأصل الهجرة هجر الوطن ۔ ۔ ۔ أشارت عائشة إلى بيان مشروعية الهجرة وأن سببها خوف الفتنة والحكم يدور مع علته فمقتضاه أن من قدر على عبادة الله في أي موضع اتفق لم تجب عليه الهجرة منه وإلا وجبت ومن ثم قال الماوردي إذا قدر على إظهار الدين في بلد من بلاد الكفر فقد صارت البلد به دار إسلام فالإقامة فيها أفضل من الرحلة منها لما يترجى من دخول غيره في الإسلام۔(فتح الباري،باب هجرة النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة،ج7،ص635)