بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 03/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عورت کی وجہ سے دوسرے آدمیوں کا جہنم میں جانے کامسئلہ


سوال

ایک عورت کی وجہ سے کتنے آدمی جہنم میں جائیں گے؟رت کی وجہ سے کتنے آدمی جہنم میں جائیں گے؟

جواب

              واضح رہے کہ  ہر کوئی اپنے  ماتحت لوگوں کی تربیت کا ذمہ دار ہے اور اس پر لازم ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کی دینی تربیت کرے اور خلاف شرع امور کے ارتکاب سےمنع کرے اگر اس نے دیدہ ودانستہ طور پر باوجود قدرت کے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اس سے اس کی ذمہ  داری کے بارے میں باز پرس ہوگی  البتہ اگر باوجود کوشش کے کوئی اس کی نصیحت نہ مانے اور خلاف شرع امور کا ارتکاب کرےتو اس سے اس پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا ،چنانچہ جس کی زیر کفالت اولاد ہوں یا عورتیں ہوں ان کی اصلاح اور تربیت کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اگر وہ نافرمانی کرے تو ان  کے عمل کی وجہ   سے یہ شخص جہنم کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا،اورجہاں تک ایک عورت کی وجہ سے کسی خاص تعداد میں اس کے رشتہ داروں کی جہنم میں جانے کا تعلق ہے تو بساط بھر کوشش کے باوجود نصوص ( قرآن پاک اور احادیث مبارکہ)میں ہمیں  کوئی ایسی آیت یا روایت  نہیں ملی جس میں اس بات کا تذکرہ ہوکہ ایک کافرہ یا فاسقہ عورت کی وجہ سے اس کے رشتہ داروں میں سے بھی کچھ لوگ جہنم میں جائیں گے۔

 

عن عبد الله بن عمر، رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «ألا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته، فالإمام الذي على الناس راع وهو مسئول عن رعيته، والرجل راع على أهل بيته، وهو مسئول عن رعيته، والمرأة راعية على أهل بيت زوجها، وولده وهي مسئولة عنهم، وعبد الرجل راع على مال سيده وهو مسئول عنه، ألا فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته».(صحيح البخاري،باب قول الله تعالى: وأطيعو الله وأطيعو الرسول،ج:9،ص:62)

عن سليمان بن عمرو بن الأحوص، عن أبيه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع: «ألا لا يجني جان إلا على نفسه. لا يجني والد على ولده، ولا مولود على والده».(سنن ابن ماجة،باب لا يجني أحد على أحد،ج:2،ص:890)


فتویٰ نمبر : 5042/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور