بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

چوری کا کوئلہ خریدنا


سوال

کراچی کے بندرگاہ پر بیرون ملک سے کوئلہ بڑے بڑے بحری جہازوں میں لایا جاتا ہے جس کی سپلائی ڈمپر اور ٹرکوں کے ذریعے بجلی گھروں کو کی جاتی ہے لیکن اس سپلائی کے دوران ٹرک ڈرائیور کچھ کوئلہ اپنے لیے نکال لیتا ہے اور پھر اس کو عام مارکیٹ میں اپنے لیے بیچ  دیتا ہے تو اس قسم کا کوئلہ  ڈرائیور سے یا کوئلہ ایجنٹ سے خریدنا شرعا کیسا ہے؟اگر معلوم ہوتو اس  کا  کیا حکم ہے اگر معلوم نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب

           شرعی نقطہ نظر سے چوری کی گئی چیز مال حرام کے حکم میں داخل ہے اورمال حرام خریدنے کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ جس کو اس کے حرام ہونے کا علم ہو تو اس کےلیے  خریدنا اور استعمال کرنا جائز نہیں اور جس کو اس کے حرام ہونے کا علم نہ ہو،اس کےلیے خریدنا اور استعمال کرنا جائز ہے۔

          لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر ٹرک  ڈرائیور یا کوئلہ ایجنٹ سپلائی کے دوران مالک کی اجازت کے بغیر  کچھ کوئلہ نکال کر اپنے لیے بیچتے ہوں اور خریدنے والے کو اس کے چوری ہونے کا پتہ ہو تو اس کےلیے اس طرح کا کوئلہ خریدنا جائز نہیں،لیکن اگر کسی کوکوئلہ کے چوری ہونے کا پتہ نہ ہو تواس کےلیےاس  کوئلہ کا  خریدنا جائز ہے۔

 

وفيه: الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لا يطيب له ولا للمشتري منه(قوله الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريبا (قوله ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه.(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،مطلب رد المشتري فاسدا إلى بائعه،ج:5،ص:98)

وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،مطلب رد المشتري فاسدا إلى بائعه،ج:5،ص:98)


فتویٰ نمبر : 3047/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور