بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 03/11/2026 |
سونا کو مروجہ کرنسی کے بدلے ادھار فروخت کرنا
سوال
میرے پاس ایک لاکھ روپے مالیت کاسونا ہےیہ سونا میں ایک سال کی مدت پرایک لاکھ پچاس ہزارروپے پر فروخت کرسکتا ہوں؟
جواب
واضح رہے کہ سونے کاسونے سے تبادلہ کرنے میں خواہ سونا جس شکل میں بھی ہو کمی زیادتی اورادھار کا معاملہ جائز نہیں نیز ہران دو چیزوں کے تبادلہ میں ایک طرف زیادتی جائز نہیں جو جنس اور قدر کے اعتبار سے ایک ہوں ،چاہے یہ زیادتی حقیقی ہویاحکمی ہوجیسا کہ ادھار کے معاملہ میں یہ زیادتی حکمی ہوتی ہے،اس لئے ان کا تبادلہ نقد اور بغیر ایک طرف زیادتی کےضروری ہے۔گزشتہ زمانے میں اگرچہ کرنسی کی پشت پرعموما سونا موجود ہوتا تھا اور کرنسی اس کی رسید سمجھی جاتی تھی ،لیکن موجودہ دور میں کرنسی نے عالمی مارکیٹ میں مستقل ثمن عرفی کی حیثیت اختیار کی ہے اس لئے یہ سونے سے الگ جنس ہے،لہذا سونے اور کرنسی کےباہم تبادلہ میں ادھار کا معاملہ جائز ہے۔نیز ادھار کی وجہ سے سونے کی قیمت میں زیادتی کرنا بھی جائز ہے،بشرطیکہ مجلس عقد میں ان میں سے ایک پر قبضہ کیا جائے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سونا کوایک سال کی مدت پر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے پر فروخت کرنا جائز ہے بشرطیکہ مجلس عقد میں ان میں سے ایک پر قبضہ کیا جائے۔
عن عبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مثلا بمثل، سواء بسواء، يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد۔(الصحيح لمسلم،باب الصرف،ج:3،ص:1211)
وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء۔(الهداية،كتاب البيوع،باب الربا،ج:3،ص:61)
وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن، ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز؛ لأن الفلوس الرائجة ثمن كالنقود، وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا، ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما يشترط ذلك في الدراهم والدنانير.وإنما يجب التقابض في الصرف بمقتضى اسم العقد، وبيع الفلوس بالدراهم ليس بصرف، وكذلك لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراهم،وإن لم يتقابضا حتى افترقا بطل العقد۔۔۔۔لأنه دين بدين، والدين بالدين لا يكون عقدا بعد الافتراق.(المبسوط للسرخسي،باب البيع بالفلوس،ج:14،ص:25:24)