بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
جادوگر کو قتل کرنا
سوال
کیا کوئی آدمی ازخود جادوگر کو قتل کرسکتا ہے ؟
جواب
شریعت مطہرہ میں جادو کرنا اور کروانا یا اس میں تعاون کرناحرام اور سخت گناہ ہے، اگر جا دو میں کفریہ الفاظ ہوں یا کفریہ عقیدہ ہواور اس کو حلال سمجھتا ہو تو یہ کفر ہےاس کی سزا قتل ہے اوراگر اس میں کفریہ عقائد وکلمات نہ ہوں اور جادو کرنے یا کرانے والا اس کو حلال بھی نہ سمجھتا ہو ،لیکن جادو سے لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہو تو یہ ”فاسق“ ہے،اس صورت میں بھی زمین میں فتنہ وفساد کو ختم کرنے کے لیے حاکم وقت اس کو تعزیرا قتل کرسکتا ہے۔
لہذا اگر کوئی شخص واقعۃ ً کسی پر جادو کروانے کا اعتراف کرتا ہےاور گواہان کے ذریعےجادو ثابت ہوجاتا ہے، تو اسلامی حکومت میں حاکمِ وقت یا اس کا نائب اس کو سخت سے سخت تعزیری سزا دے سکتا ہے،فتنہ اور فساد کو روکنے کے لیے اس کو تعزیراً قتل کرنا بھی جائز ہے۔ لیکن عدالتی کاروائی کے بغیر از خود اس کے لیے سزا تجویز کرکے سزا کا نفاذ کرنا جائز نہیں كيونكہ سزاوں کے نفاذ کی ذمہ داری ریاست کی ہےشرعی اعتبار سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ شرعی سزاؤں کا نفاذ ماورائے عدالت از خود کرنے لگے۔
السحر حرام بلا خلاف بين أهل العلم، واعتقاد إباحته كفر. وعن أصحابنا ومالك وأحمد يكفر الساحر بتعلمه وفعله سواء اعتقد الحرمة أو لا ويقتل وفيه حديث مرفوع (حد الساحر ضربة بالسيف )يعني القتل۔۔۔وأما قتله فيجب ولا يستتاب إذا عرفت مزاولته لعمل السحر لسعيه بالفساد في الأرض لا بمجرد علمه إذا لم يكن في اعتقاده ما يوجب كفره.۔۔۔ قال أبو حنيفة: الساحر إذا أقر بسحره أو ثبت بالبينة يقتل ولا يستتاب منه، والمسلم والذمي والحر والعبد فيه سواء۔(رد المحتار على الدر المختار:باب المرتد،مطلب في الساحر،ج6،ص382)
وأما شرائط جواز إقامتها فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام وهذا عندنا.(بدائع الصنائع:کتاب الحدود،فصل فی شرائط جوازإقامتها،ج:9،ص:250)