بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شیئرز کی خریدوفروخت


سوال

اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟

جواب

           شرعی نقطہ نظر سے شیئر ز کا کاروبارمند رجہ ذیل شرائط کی رعایت کے ساتھ جائز ہے :

(1) کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہواور اگر اصل کار و بار حرام ہو تو اس کے شیئرز خریدنا بھی حرام ہوگا ۔

(2) کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے وجود میں آچکے ہوں ، اگر اثاثے صرف نقد کی شکل میں موجود ہوں تو پھر خریدے ہوئے شیئر زفروخت کرنے کی صورت میں اس پر منافع لینا جائز نہیں ہوگا ، کیوں کہ اس صورت میں سود ہے ۔

(3)  کمپنی کا اصل کار رو بار تو حلال ہ، لیکن سودی لین دین بھی کرتی ہو مثلا بینک سے سودی قرضہ حاصل کرتی ہو یا اضافی رقم سودی کھاتے میں جمع کرتی ہو تو ایسی صورت میں اس کمپنی کے شیئر ز دو شرطوں کے ساتھ خریدنا جائز ہے:

پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اپنی بس کے مطابق سود کے خلاف آواز اٹھائے اور سالانہ میٹنگ میں اظہار کرے  کہ ہم سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں ، لہذا اس کو بند کیا جائے ۔

دوسری شرط یہ ہے آمدنی کا جو حصہ سودی کھاتے میں رقم جمع کر کے حاصل کیا گیا ہو، وہ بلانیت ثواب صدقہ کریں۔‌

 

وبطل ‌بيع ‌مال ‌غير ‌متقوم كخمر وخنزير فإن المتقوم هو المال المباح الانتفاع به شرعا۔( رد المحتار على الدر المختار، ‌‌باب البيع الفاسد، مطلب في تعريف المال، ج:7، ص:235)

‌إذا ‌دفع ‌المسلم إلى النصراني مالا مضاربة بالنصف فهو جائز إلا أنه مكروه، فإن اتجر في الخمر والخنزير فربح جاز على المضاربة في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وينبغي للمسلم أن يتصدق بحصته من الربح۔( الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، الباب الثاني والعشرون في المضاربة بين أهل الإسلام وأهل الكفر، ج:4، ص:333)


فتویٰ نمبر : 3099/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور