بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خارش زدہ جانور کی قربانی کا حکم


سوال

آج کل جانوروں میں"لمپی اسکن" کے نام سے ایک بیماری چل رہی ہے،شرعا جس جانور میں یہ بیماری موجود ہوتو اس  کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

           سوال میں مذکور بیماری کے بارے میں موجودہ تحقیقات کے مطابق اگر کسی جانور میں یہ بیماری ہوتو اسے قربانی کے لیے نہ خریدا جائے،اور اگر کسی نے صحیح سالم جانور خرید لیاہے، اور بعد میں یہ بیماری ظاہر ہوئی ہے، تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس بیماری کی وجہ سے صرف کھال کا ظاہری حصہ متاثر ہوا ہے، اس کا اثر گوشت تک نہیں پہنچا، تو اس جانور کی قربانی جائز ہے، لیکن اگر یہ بیماری جسم کے اندر پھیل گئی، اور اس کااثر گوشت  تک پہنچ گیا ہےتو اس کی قربانی جائز نہیں، ایسی صورت میں  صاحبِ استطاعت شخص  پر اس جانور کی جگہ دوسرا جانور لے کر قربانی کرنا ضروری ہوگا،اور اگر قربانی واجب نہ ہو تو پھر اسی جانور کو ذبح کرنا کافی ہوجائے گا۔

 

(‌وأما ‌صفته) : ‌فهو أن يكون سليما من العيوب الفاحشة، كذا في البدائع۔ ۔۔ومن ‌المشايخ ‌من ‌يذكر ‌لهذا ‌الفصل ‌أصلا ‌ويقول: ‌كل ‌عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع، ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذا في المحيط۔(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:299/297)

(‌ولو ‌اشتراها ‌سليمة ‌ثم ‌تعيبت ‌بعيب مانع) كما مر (فعليه إقامة غيرها مقامها إن) كان (غنيا، وإن) كان (فقيرا أجزأه ذلك) وكذا لو كانت معيبة وقت الشراء لعدم وجوبها عليه بخلاف الغني۔(الدر المختار مع ردالمحتار، ‌‌كتاب الاضحية، ج:6، ص:325)

ويجوز ان يضحي بالجرباء  إن كانت سمينة جاز ‌لأن ‌الجرب ‌في ‌الجلد ‌ولا ‌نقصان ‌في ‌اللحم، وإن كانت مهزولة لا يجوز لأن الجرب في اللحم فانتقص۔(فتح القدير، كتاب الأضحية، ج:9، ص:515)

(‌والجرباء ‌السمينة) ‌فلو ‌مهزولة لم يجز، لان الجرب في اللحم نقص۔(الدر المختار مع ردالمحتار، ‌‌كتاب الاضحية، ج:6، ص:323)


فتویٰ نمبر : 9226/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور