بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق دینےکےبعدمسئلہ پوچھنےپرطلاق کا وقوع


سوال

زید نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، پھراس نے تین یا چارمفتیان کرام سے موبائل پرالگ الگ مسئلہ بیان کیا کہ میں نے بیوی کو اس طرح ایک طلاق دی۔ زید نے مفتیان کرام سے  صرف اپنامسئلہ بیان کرنا تھا، تو زید کی بیوی پر کتنی طلاق واقع ہوگی؟

جواب

               واضح رہے کہ  طلاق کے الفاظ استعمال کرنے سے  بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے، لیکن اگر کوئی شخص صرف سابقہ طلاق کی خبر دے یا مسئلہ پوچھنےکےوقت  دیئےہوئےطلاق کی حکایت بیان کرے تو اس سےالگ طلاق واقع نہیں ہوتی۔

              لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر زید نےاپنی بیوی کو ایک طلاق دی ہو تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی  ہےاورعدت کے اندر اسے رجوع  کا حق حاصل ہے،لہذااگر بعد میں متعدد مفتیان کرام  سے اس نے اسی صورت کے بارے میں مختلف موقعوں پرمسئلہ  معلوم کرنے کی نیت سےطلاق کا ذکر کیا ہو تو اس سےمزید  طلاقیں واقع نہیں ہوئی ہیں۔

 

حكى يمين رجل فلما بلغ إلى ذكر الطلاق خطر بباله امرأته إن نوى عند ذكر الطلاق عدم الحكاية واستئناف الطلاق وكان موصولا بحيث يصلح للإيقاع على امرأته يقع لأنه أوقع وإن لم ينو شيئا لا يقع لأنه محمول على الحكاية۔(الفتاوى الهندية،فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لايقع طلاقه،ج:1،ص:353)

وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب۔(رد المحتار،باب طلاق غيرالمدخول بها،ج:3،ص:293)


فتویٰ نمبر : 6434/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور