بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ہوٹل میں کھانے کی چیزوں کی قیمت معلوم کیے بغیر کھانا
سوال
بعض لوکل ہوٹلوں میں کھانےکی اشیاء کی قیمتیں آویزاں نہیں ہوتی جس کی وجہ سے لوگ جب اس ميں کھانا کھا کر قیمت ادا کرتے ہیں تو بسا اوقات جھگڑا ہو جاتا ہے۔اس طرح جب کہ ہوٹل میں اشیاء کی قیمتیں آویزاں نہ ہوں اور کھانے والے کو قیمت معلوم نہ ہوں تو اس طرح کھانے والے پر کونسی قیمت لازم ہوگی؟
جواب
عام طور پر ہوٹلوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں متعین ہوا کرتی ہیں، اکثر مینو(MENU) کارڈ پر یا دیوار پر آویزاں ہوتی ہیں یا ہوٹل والوں سے پوچھنے پر بتا دی جاتی ہیں۔ لوگ آرڈر دے کر کھانا وغیرہ کھاتے ہیں اور بعد میں ادائیگی کرتے ہیں، اس لیے اگر قیمت پر تنازعہ کا اندیشہ نہ ہو تو ریٹ معلوم کرنا ضروری نہیں لیکن اگر بعد میں ریٹ پر جھگڑنے کا خطرہ ہو تو پھر ابتدامیں اشیاء کا ریٹ معلوم کرنا لازم ہے تاکہ بعد میں تنازع نہ ہو۔
لہذا صورت مسؤلہ میں کھانا کھانے والے نے قیمت معلوم کیے بغیر کھانا کھا لیا تو اس پر وہی قیمت لازم ہو گی جو ہوٹل میں مقرر ہے۔
ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها جاز استحسانا۔۔۔الأشياء التي تؤخذ من البياع على وجه الخرج كما هو العادة من غير بيع كالعدس والملح والزيت ونحوها ثم اشتراها بعدما انعدمت صح. فيجوز بيع المعدوم هنا. وقال: بعض الفضلاء: ليس هذا بيع معدوم إنما هو من باب ضمان المتلفات بإذن مالكها عرفا تسهيلا للأمر ودفعا للحرج كما هو العادة۔ (الدرالمختار على صدر رد المحتار، كتاب البيوع، فروع في البيع، ج:7، ص:33)