بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دو سالہ گائے کی قربانی کرنا


سوال

مفتی صاحب ہماری گھر میں تقریبا 2 سال اور ایک ماہ عمرکی گائے ہے لیکن اس کے ابھی تک دانت  پورے نہیں ہے  اور کمزور  بھی ہے تو کیا اس  پر قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ نیز ہم نے یہ بھی سنا  ہے کہ کہ جس گائے کی دانت پورے نہ ہو تو  اس پر قربانی درست نہیں ہوتی؟

جواب

            واضح رہے کہ فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے  کہ گائے و بھینس کی قربانی کے جواز کے لیے ان کی عمر کم ازکم دو سال کا ہونا ضروری ہے اگر چہ کمزورہو اور ابھی تک اس کی عمر والے دانت بھی نہ نکلے ہوں   تو ایسے گائے و بھینس کی قربانی شرعا درست ہے،تاہم اگرگائے و بھینس اتنی کمزور  ہو کہ نہ  خود اٹھ سکتی ہواور  نہ ذبح کی جگہ تک  خود چل سکتی ہو تو ایسے جانور کی قربانی شرعاجائز نہیں۔

          صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی گائےکی عمر پوری  ہوچکی ہو تو اس پر قربانی جائز ہے،البتہ اگراتنی کمزور ہے کہ چلنے پھرنے  کی قابل نہیں تو اس کی قربانی جائز ہے۔

 

فلا يجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصة إذا كان عظيما۔۔۔ والجذع من البقر ابن سنة والثني منه ابن سنتين۔۔۔ حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئا لا يجوز۔(الفتاوي الهندية،كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامةالواجب،ج:5،ص:297)

و لا يجوز العرجاءالتی لا تقدر علی القيام والمشي إلي المذبح وإن قدرت جاز(فتاوی قاضيخان،كتاب الأضحية،فصل في العيوب ما يمنع الأضحية و ما لا يمنع لا يجوز،ج:3،ص:240)


فتویٰ نمبر : 9171/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور