بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
سال بھر استعمال نہ ہونے والے ضروریات ِاصلیہ
سوال
قربانی کے نصاب میں ضرورت سے زیادہ سامان سے کیا مراد ہے؟ نیز اگرکسی کے پاس ضرورت کی کوئی چیز ہو لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے سال بھر استعمال میں نہ لائی جائے توکیا یہ ضرورت سے زیادہ سامان میں شمار ہوگی؟
جواب
ضرورت اصلیہ سے مراد وہ ضرورت ہے جو جان اور آبرو سے متعلق ہویعنی اس کے پورا نہ ہونے سے جان یا عزت و آبرو جانے کا اندیشہ ہو، مثلا: کھانا، پینا، پہننے کے کپڑے، رہنے کا مکان، اہل صنعت و حرفت کے لیے ان کے پیشے کے اوزار ضرورت اصلیہ میں داخل ہے۔ضرورت سے زائد سامان سے مراد یہ ہے کہ وہ چیزیں انسان کی استعمال میں نہ ہوں ، اور ہر انسان کی ضروریات اور حاجات عموما دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اور راجح قول کے مطابق ضروریات کو پوری کرنے کےلیے اشیاء کو جائز طریقہ سے اپنی ملکیت میں رکھنے کی کوئی خاص تعداد شریعت کی طرف سے مقرر نہیں ہے، بلکہ جو چیزیں انسان کے استعمال میں ہوں اور انسان کو اس کے استعمال کی حاجت پیش آتی ہواور وہ اشیاء تجارت کےلیے نہ ہوں و ضرورت اور حاجت کے سامان میں داخل ہیں۔
صورت مسؤلہ میں اگرسائل کے پاس ایسی چیز موجود ہے جو حاجت اصلیہ میں داخل ہے لیکن کسی عذر کی وجہ سے استعمال میں نہ لائی جائے تو شرعا یہ چیزیں ضرورت اصلیہ سے زائد متصور نہ ہوگی اور نہ ہی ان کو نصاب میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
(قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك. (ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الزکاة، ج:2، ص:262)