بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ایک تولہ سونا اور کچھ نقدی پر وجوب قربانی
سوال
اگر کسی عورت کے پاس ایک تولہ سونا اور کچھ نقدی ہے اوروه چاندی کے نصاب سے صاحب نصاب بن جاتی ہے،لیکن اتنی نقدی نہیں ہے کہ ماہانہ خرچ نکال کر قربانی کر سکے اور اس کے لیے قرض لے کر دوبارہ ادا کرنا دشوار ہے تو کیا وہ سونا فروخت کرکے قربانی کرے گی؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے اگر کسی کے پاس سونا یاچاندی یا نقدی ہو لیکن کوئی بھی اپنے نصاب تک نہ پہنچتا ہو،یعنی سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو اور چاندی ساڑھے باون تولہ سے کم ہو ،اسی طرح نقد رقم بھی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہوتو ایسی صورت میں باہم ملا کر دیکھا جائے گا کہ یہ چاندی کےنصاب کے بقدرہے یا نہیں،اگر ان کے باہمی ملنے سے چاندی کا نصاب پورا ہوتا ہو تو قربانی واجب ہو گی ،ورنہ نہیں۔
صورت مسؤلہ میں اگر عورت کے پاس ایک تولہ سونے کے علاوہ ملکیت میں اتنی نقد رقم ہو جس سےساڑھے پینتالیس تولہ چاندی خریدا جاسکتا ہو تو اس عورت پر قربانی واجب ہوگی، چاہے تو موجودہ مالیت سے قربانی کرے یا کسی سے قرض لے کر قربانی کرے۔ لیکن اگر ساڑھے پینتالیس تولہ چاندی کی بقدر نقدی موجود نہ ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔
وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية. (فتاوى هندية، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص:191)
(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه.(الهندية، كتاب الزكوة، الباب الأول في تفسيرهاوصفتها، ج:1، ص:172)