بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گائے میں قربانی اور عقیقہ کی نیت کرنا


سوال

اگر کوئی  شخص گائے کے سات حصوں میں سے تین حصے لےلے اور پھر ان میں سے ایک حصے میں بچے کے عقیقہ کی نیت کر لے جو چند دن پہلے  پیدا ہوا ہےاور باقی دو میں قربانی کی نیت کرلے  تو کیا ایک ہی گائے میں قربانی اور عقیقہ  دونوں کی نیت کرنا جائز ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ شرعا بڑے جانور جیسےگائے اور بھینس وغیرہ میں  سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں البتہ یہ جائز ہے کہ بڑے جانور  کے سات  حصوں میں سے بعض حصوں میں قربانی کی نیت کرے اور بعض میں عقیقہ کی نیت کرے ۔

           لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر ایک آدمی نے گائے میں تین حصے لیے ہوں  تو اگر  ان میں سے ایک حصے میں بچے کے عقیقے  کی نیت کرے اورباقی میں قربانی کی نیت کرے تو یہ جائز ہے  اور اس سے قربانی پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔

 

وشمل ما لو كانت القربة واجبة على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافا لزفر، لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الاضحية،ج:6،ص:326)


فتویٰ نمبر : 9159/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور