بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اوجھڑی کھانے کا حکم


سوال

میرا ایک دوست ہے وہ کہتا ہے کہ اوجھڑی کا کھانا  جائز نہیں کیا یہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

          شریعت مطہرہ کی رو سے حلال جانوروں میں سات اعضا (بہتا ہوا خون،آلہ تناسل،خصیتین(کپورے)،مادہ جانور کی شرم گاہ ،غدود،مثانہ، پتہ)کا کھانا جائز نہیں، اس کے علاوہ جانور کے تمام اعضا کا کھانا جائز ہے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق مذکورہ سات اعضا میں اوجھڑی  کا  ذکرنہیں ہے،لہذااوجھڑی کاکھانا جائز ہے۔

 

وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول فالذي يحرم أكله منه سبعة: الدم المسفوح، والذكر، والأنثيان، والقبل، والغدة، والمثانة، والمرارة۔(بدائع الصنائع،كتاب الذبائح والصيود،فصل فيما يحرم أكله من أجزاءالحيوان، ج:6، ص:272)


فتویٰ نمبر : 5022/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور