بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مطلقہ سے دوبارہ شادی کی صورت میں طلاقوں کا اختیار


سوال

اگر کوئی شخص  اپنی بیوی کو ایک ، دو یا تین طلاقیں دیدے ،عورت عدت گزار نے کے بعد دوسری جگہ شادی کر لے،چند مہینے بعد عورت کا دوسرا خاوند بھی مر جائے  پھر عدت الوفات گزرنے کے بعد دوبارہ پہلے خاوند سے نکاح کرے تو شوہر کو کتنی طلاقوں  کا اختیار ہو گا ؟

جواب

          شریعت مطہرہ کی رو سے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے تو وہ عورت اس شخص پر مغلظہ ہو جاتی ہےعدت گزرنے کے بعد اگر یہ عورت دوسری جگہ شادی کرلے اور ہمبستری كے  بعد اس کا شوہر فوت  ہو جائے یا وہ اپنی رضامندی سے طلاق دے دے،تو عدت گزرنے کے بعد یہ عورت سابقہ شوہر سے نکاح کر سکتی ہے نکاح کرنے کے بعد شوہر کو تین طلاقوں کا اختیار ہو گا ۔ایسا ہی اگر شوہر نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوں  اور عورت  عدت طلاق گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کر لے تو پھر اگرہمبستری کے بعد اس کا شوہر انتقال کر جائےیادخول کے بعدطلاق دی ہو توعدت گزرنے کے بعد اگر سابقہ شوہر دوبارہ اس عورت سے نکاح کرے تو بھی مفتی بہ قول کےمطابق  تجدید نکاح سے  تین طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا ۔

 

وإذا طلق امرأته طلقة أو طلقتين وانقضت عدتها وتزوجت بزوج آخر ودخل بها ثم طلقها وانقضت عدتها ثم تزوجها الأول عادت إليه بثلاث تطليقات ويهدم الزوج الثاني الطلقة والطلقتين كما يهدم الثلاث كذا في الاختيار شرح المختار وهو الصحيح كذا في المضمرات.الفتاوی الهندية ،الباب السادس في الرجعة ، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج1،ص424)

(والزوج الثاني يهدم بالدخول) فلو لم يدخل لم يهدم اتفاقا قنية (ما دون الثلاث أيضا) أي كما يهدم الثلاث إجماعا۔(الدرالمختارعلی صدر ردالمحتار، باب الرجعة،مطلب في حيلة إسقاط التحليل،ج5،ص52)

(والإيلاج في محل البكارة يحلها والموت عنها لا)(قوله: والموت عنها لا) أي لو مات عنها قبل الوطء لا يحلها للأول۔(الدرالمختار علی صدر المحتار ، باب الرجعة ،في حيلة إسقاط عدة المحلل،ج5،ص45)


فتویٰ نمبر : 6430/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور