بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 03/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مشتری کا مبیع پر قبضہ کرنے سے پہلے مبیع کا ہلاک ہو جانا


سوال

بائع نے مشتری کو سامان بھیجا اور وہ راستے میں جل گیا اور اس میں بائع  کی کسی قسم کی غفلت نہیں تھی  تو راستے میں جو سامان جل گیا اس کا تاوان بائع پر ہوگا یا مشتری پر؟

جواب

          واضح رہے کہ مشتری یا مشتری کے کسی نمائندہ کی طرف سے مبیع پر قبضہ کرنے سے پہلے  اگر مبیع ہلاک ہو جائے   یا مبیع حوالہ کرنے کےلیے جس جگہ کی تعین ہوئی ہو  اس جگہ میں مبیع  کو حوالہ کرنے سے پہلے اگر مبیع ہلاک ہو جائے تو اس کا تاوان بائع کے ذمہ ہوگا  اور وہ مشتری سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

            لہذا صورت مسئولہ میں اگر مشتری یا مشتری کے کسی نمائندہ کے مبیع پر قبضہ کرنے سے پہلے وہ راستے میں جل  ہو گیا ہو  تو اس کا تاوان  بائع کے ذمہ ہو گا  اور وہ اس میں مشتری سے پیسوں کا مطالبہ نہیں کر سکتا ۔

 

ولو هلك في يد البائع انفسخ البيع ولا شيء على المشتري اعتبارا بالبيع الصحيح المطلق.(الهداية،باب خيار الشرط،ج:3،ص:30)

وفي الفتح والدر المنتقى: لو هلك المبيع بفعل البائع أو بفعل المبيع أو بأمر سماوي، بطل البيع ويرجع بالثمن لو مقبوضا وإن هلك بفعل المشتري، فعليه ثمنه إن كان البيع مطلقا أو بشرط الخيار له.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،فرع ظهر بعد نقد الصراف أن الدراهم زيوف،ج:4،ص:560)

إذا بيع  مال على أن يسلم في محل كذا لزم تسليمه في المحل المذكور.(شرح المجلة لخالد الأتاسي،المادة:287،كتاب البيوع،الباب الخامس في بيان المسائل المتعلقة بالتسليم،ج:2،ص:218)


فتویٰ نمبر : 3034/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور