بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مزدوری کے لیے خریدی گئی گاڑی پر قربانی کا وجوب


سوال

زید کے پاس ایک کروڑ مالیت کی ٹریلر   ہے جو اپنی معاش پوری کرنے کے لیے حال ہی میں خریدی ہے اس گاڑی کے علاوہ اتنی نقدرقم یا  سامان وغیرہ نہیں ہے کہ جو نصاب تک پہنچ جائے تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟

جواب

             واضح رہے کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں آلات حرفت(مثلاًدرزی کی سلائی مشین ،مزدور کی مزدوری کا سامان،صنعت و کارخانے کی مشینری وغیرہ ) يا دوسرے وسائل رزق  موجود ہوں جس كے ذريعے كوئی شخص اپنی روزی  كماتا ہوتویہ انسان کی حاجتِ اصلیہ میں داخل ہیں، چنانچہ ان کی وجہ سے انسان مالدار شمار نہیں ہوتا  ۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سائل نے ایک کروڑ مالیت کی ٹریلر معاشی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے خریدی ہو تو یہ گاڑی حوائج اصلیہ میں داخل ہو گی اور اس کی قیمت سے یہ شخص غنی متصور  نہیں  ہو گابلکہ اس کی آمدنی کا اعتبار ہو گا  لہذا اگر اس ٹریلر کے علاوہ  ضرورت سے زائد اتنا سامان وغیرہ  قربانی کے دنوں میں موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کےبرابر ہو تو قربانی واجب ہو گی ۔

 

وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية۔(الفتاوى الهندية، الباب الثامن في صدقة الفطر،ج:1،ص:191)

(قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة،ج:2،ص:262)


فتویٰ نمبر : 9182/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور