بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
ہبہ کے باوجود استحقاق میراث
سوال
اگر کوئی بیٹاوالد کی حیات میں اپنے حصے کا مطالبہ کرے(لڑکر، جھگر کر، ڈر دھمکا کر)اوراس کا باپ اگر بیٹےکے مطالبہ اور اسرار پرزندگی میں اسے کچھ رقم دےدےاور اسے کہے کہ آگے تم میری جائیدادمیں کوئی حصہ نہیں لوگے تمھارا حصہ ختم،تو والد کے وفات کے بعداس بیٹے کا میراث میں حصہ ہو گا یا نہیں؟اگر ہوگا تو کتنا ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ شرعاًہر شخص زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداداورمال ومتاع میں خودمختار ہوتا ہے ۔نیزاس میں جس طرح چاہے ہر جائز تصرف کرسکتا ہے۔شرعی نقطہ نظر سےکوئی بیٹاباپ کی زندگی میں اس کی مملوکہ جائیداد میں میراث کی حصہ کا مطالبہ نہیں کرسکتا،کیوں کہ میراث کا حصہ مورث کی وفات کے بعدثابت ہوتا ہے۔البتہ اگر کوئی باپ بحالت ہوش وحواس اپنی کل جائیداد یا جائیدد میں سے کچھ حصہ اپنےکسی بیٹے کو دے دے اور وہ اس پر قبضہ بھی کرلے، تو یہ باپ کی جانب سے ہبہ شمار ہوگا،البتہ وراثت ایک اضطراری حق ہے جو کسی کے ساقط کرنے سےساقط نہیں ہوتا۔چنانچہ اس ہبہ لینے سے میراث کا حق ساقط نہیں ہوتا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر باپ نےزندگی میں بحالت ہوش وحواس بیٹے کے مطالبہ پر کچھ رقم اس شرط پر دے دیاہو کہ وہ باپ کے فوت ہونے کے بعد اس کی میراث میں حصہ دار نہیں ہوگا ،تو ایسی صورت میں باپ کی طرف سے دی گئی رقم ہبہ شمار ہوگی اورباپ کے مرنے کےبعدحقوق متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے گا،اس میں یہ بیٹا دیگر ورثا کی طرح اپنے حصے کا حقدار ہوگا۔
الإرث يثبت بعد موت المورث ۔(البحرالرائق،كتاب الفرائض، ج:9، ص364)
الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط۔(ردالمحتار،كتاب الدعوی،باب التحالف، ج:11، ص:678)
تنعقد الهبة بالإيجاب والقبول،وتتم بالقبض۔(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:837، ص:462)