بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
گناہ سے توبہ تائب ہونے والے کا دین دار لڑکی سے نکاح کا حکم
سوال
میرے گھر والے میرا نکاح ایک پاکدامن لڑکی سے کرنا چاہتے ہیں حال یہ ہے کہ میں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کر چکا ہوں اور بقول علمائے کرام کے سچی توبہ کرنے سے انسان کے گناہ چاہے جیسے بھی ہوں معاف ہوجاتے ہیں تو کیا میرا نکاح ایسی پاکدامن لڑکی سے جائز ہے یا اب زندگی بھر بغیر نکاح کے ہی رہوں گا؟
جواب
"کفو" کا معنی ہے: ہم سر، ہم پلہ، برابر، یعنی مردنسب، دین داری، شرافت، پیشے اور مال داری میں عورت کے ہم پلہ یا اس سے بڑھ کر ہو، اگرمرد نسب، مال ،دِینداری ،شرافت اورپیشے میں عورت کے ہم پلہ یا اس سے بہتر ہو تویہ دونوں ایک دوسرے کے "کفو" قرار پائیں گے، ان کاباہمی رضامندی کے ساتھ نکاح درست ہے۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق جو لڑکا اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہوکر دیندار بن گیا ہو تو دیگر امورِ کفو کے ہوتے ہوئے وہ دیندار لڑکی کاکفو کہلائےگا اور اس کا نکاح دیندار لڑکی سے جائز ہوگا۔
(الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش وهذا عند الكل في الصحيح ۔ (الدر المختار علي صدر ردالمحتار، كتاب النكاح، باب الكفاءة، ج:3، ص:84)
الكفاءة تعتبر في أشياء (منها النسب)۔۔۔ (ومنها إسلام الآباء)۔۔۔ (ومنها الحرية)۔۔۔ (ومنها الكفاءة في المال)۔۔۔(ومنها الديانة)۔۔۔ (ومنها الحرفة)۔ (الفتاوى الهندية، كتاب النکاح، الباب الخامس في الأكفاء في النكاح، ج:1، ص:290)