بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ایڈوانس کی صورت میں دی گئی رقم پر قربانی کا حکم
سوال
میں ایک دکاندار ہوں نو ماہ قبل کرایہ پر دکان لے کر اپنا کام شروع کیا ہےدکان کی فی الحال صورت حال یہ ہے کہ جو پرافٹ ہوتا ہے اس سے دکان کا سامان اور کرایہ ادا کردیا جاتا ہے یعنی جمع شدہ کوئی رقم نہیں ہے لیکن دکان کے مالک کو ایڈوانس کی مد میں ایک لاکھ روپے دیئے تھے ۔ کیا ایڈوانس کی مد میں دی گئی رقم (مبلغ ایک لاکھ) پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟
جواب
شرعی اعتبارسےقربانی ہر اس مسلمان (مرد وعورت) پرواجب ہوتی ہےجو عاقل،بالغ اور مقیم ہو اور اس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونایا ساڑھےباون تولہ چاند ی یا سامان تجارت موجود ہو جو اس شخص کے حاجات اصلیہ اور قرض سےخالی ہو،ایسے شخص پرقربانی واجب ہوتی ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق ایڈوانس میں دی گئی رقم اگروہ رقم مکان چھوڑنےکےبعدواپس کرایہ دارکوملتی ہوتویہ رقم کرایہ دار کامالک مکان پرقرض ہوتی ہےیعنی اس رقم کا مالک کرایہ دار ہی ہوتا ہے، تواس صورت میں یہ شخص نصاب کا مالک ہےلہذا اس شخص پرقربانی واجب ہوگی،البتہ قربانی کے دنوں میں اگر اس کے پاس اتنی رقم نہ ہو جو نصاب کے برابر ہو ،اورنہ ہی ضرورت سے زائد اتناسامان موجودہو،تو اس صورت میں قربانی واجب نہ ہوگی ،یاد رہے کہ دکان میں موجود سامان تجارت بھی نصاب میں شمار کیا جائےگا۔
له مال كثير غائب في يد مضاربه أو شريكه ومعه من الحجرين أو متاع البيت ما يضحي به تلزم۔(ردالمحتار،كتاب الأضحية،ج:6،ص:312)
ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب، وكذا لو كان له مال غائب لا يصل إليه في ايامه۔(الفتاوى الهندية،الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها،ج:5،ص:292)