بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

چھ تولے سونا اورضرورت سے زائد سامان پرقربانی کا وجوب


سوال

ایک عورت کے پاس چھ تولہ سونا ہے ، اس کے علاوہ نقدرقم  اور چاندی نہیں ہے البتہ ضروریات اصلیہ سے کچھ زائد چیزیں ہیں ،تو  کیا اس  پر قربانی  ہوتی ہے یا نہیں ؟

جواب

         شرعی اعتبار سے قربانی ہر اس مسلمان (مرد یا عورت )پر واجب ہوتی ہے جو عاقل، بالغ اور مقیم ہو اور اس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی یا چاندی کے نصاب کے بقدر مال یا سامان موجود ہو جو اس شخص کے حاجات اصلیہ اور قرض سے زائد ہو تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوتی ہے ۔

            لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر عورت کے پاس چھ تولہ سونا ہواور اس کے علاوہ نقد رقم یا چاندی نہ ہو البتہ ضروریات اصلیہ سے کچھ زائد چیزیں موجود ہوں تو اگر ان زائد اشیاء کی قیمت ساڑھے سات تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر ہو تو اس عورت پر قربانی واجب ہو گی۔

 

ثم اختلف أصحابنا في كيفية الضم فقال أبو حنيفة: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد: يضم باعتبار الأجزاء وهو رواية عن أبي حنيفة أيضا۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،فصل في مقدار الواجب،ج:2،ص:412)

ومتی کان قول أبي يوسف و محمد رحمهماالله موافق قوله لايتعدى عنه إلا فيما مست اليه الضرورة ،وعلم أنه لو كان أبو حنيفة رأى ما رأوا لأفتى به،وكذا إذا كان أحدهما معه۔(شرح عقود رسم المفتي ،مطلب في الترتيب بين روايات المذهب،ص:87)


فتویٰ نمبر : 9138/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور