بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
صدقات واجبہ کی رقم ملنے سے پہلے موجود رقم سے تملیک کا حکم
سوال
صدقات واجبہ کی رقم ملنے سے پہلےموجود ملکیتی رقم کے ذریعےتملیک کرنا جائز ہے یا نہیں ؟جبکہ ابھی تک کسی نےرقم لانے کا ذکر ہی نہیں کیا ہو؟
جواب
واضح رہے کہ صدقات واجبہ(زکوۃ،عشر،اورصدقہ فطر وغیرہ)کی ادائیگی میں تملیک ایک ضروری شرط ہے،اور یہ تب متصور ہوگی جب مالک خود کسی مستحق زکوۃ کوصدقہ واجبہ کا مالک بنا دے یا دوسرے شخص کو اجازت دے کرتملیک کا وکیل بنا دے پھر وہ کسی مستحق کوصدقہ کا مالک بنا دے۔بہر حال دونوں صورتوں میں تملیک کے لیےصدقہ واجبہ کی رقم پر ملکیت کا ہونا ضروری ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق متوقع ملنے والی صدقہ واجبہ کی رقم جب ملکیت میں نہ ہو،اورنہ ہی مالک نے تملیک کاحکم دیا ہو، تو موجود رقم سے تملیک کا فریضہ ساقط نہیں ہوگا۔
الزكاة۔۔۔ (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك)۔۔۔۔ خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه۔(تنويرالأبصارمع الدرالمختار،كتاب الزكوة، ج:3، ص:173)
ولو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز؛ لأنها وجدت نفاذا على المتصدق؛ لأنها ملكه، ولم يصر نائبا عن غيره فنفذت عليه ولو تصدق عنه بأمره جاز۔(البحرالرائق شرح كنزالدقائق،كتاب الزكوة ،شروط أداءالزكوة،ج:2، ص:369)