بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وکیل بالبیع کی اجرت متعین قیمت سے زائد مقرر کرنا


سوال

میرے پاس ایک گاڑی ہے میں نے ایک شخص سے کہا کہ یہ  بیچنی ہے،   مجھے مثلاً 20000 دے دینا باقی آپ نے جتنے میں بھی بیچ دی وہ زائد قیمت آپ کی ہوگی۔ اب اس شخص نے تیسرے سے کہا کہ ایک گاڑی ہے اس کی قیمت مثلاً50000 ہے اس تیسرے نے گاڑی 50000 میں خرید لی اب بیچ والے شخص نے 20000 گاڑی کے مالك كو دے كر باقی  30000 اپنے  پاس رکھ لیے،  کیا یہ قیمت اس بیچ والے شخص کے لیے جائز ہے؟ اور کیا اس طرح سے لوگوں کی چیزیں  زائد قیمت بتلا کر بیچنا اور زائد قیمت اپنے لیے بچا کر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

                واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو اپنی کسی چیز بیچنے کا کہے اور اس کی اجرت یہ طے ہو کہ مقررہ قیمت سے زائد جتنی رقم  میں بھی بیچ دی  وہ  آپ کی ہوگی ، تو  اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے وکالت کا یہ معاملہ جائز نہیں کیونکہ بعد میں نزاع کا سبب بنے گا۔

                صورت مسئولہ میں اگرسائل کو  گاڑی بیچنے کا وکیل بنایا گیا ہو لیکن وکالت کی اجرت پہلے سے متعین نہ کی گئی ہو بلکہ باہمی طور پر یہ معاہدہ ہوا ہو کہ مقررہ  قیمت سے زائد رقم وکیل کی اجرت ہوگی تب وکالت کی اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے وکالت کا یہ معاملہ جائز نہ ہوگا،تاہم اجرت کے مجہول ہونے کے باوجود  اگر وکیل نے وہ گاڑی زائد قیمت پر  بیچ دی تو مقررہ قیمتِ فروخت کے ساتھ زائد قیمت بھی مالک کی  ہوگی البتہ  وہ  اجرتِ مثل کا حقدار ہوگا۔

 

فرع: الوکیل إذا خالف، إن خلافا إلی خیر في الجنس کبیع بألف درهم فباعه بألف ومأة نفذ. (ردالمحتار مع الدرالمختار، كتاب الوكالة، باب الوكالة بالبيع والشراء، ج:5، ص:521)

إذا أخذ الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة فإنه غير ممنوع شرعا، إذ الوكالة عقد جائز لا يجب على الوكيل إقامتها فيجوز أخذ الأجرة فيها. (فتح القدير، كتاب الوكالة، ج:8، ص:3)

لو أعطى أحد ماله للدلال وقال بعه بكذا دراهم فإن باعه الدلال بأزيد من ذلك فالفاضل أيضا لصاحب المال وليس للدلال سوى الأجرة. (مجلة الأحكام العدلية، الباب السادس في بيان أنواع المأجور وأحكامه، الفصل الرابع: في إجارة الآدمي، ج:1، ص:107، المادة:578)

وإنما يجب للوكيل أجر على عمله إن شرطه له ذلك صريحا أو بدلالة العرف والعادة بأن كان الوكيل ممن جرت عادتة أن يعمل بأجرة۔(شرح المجلة لخالد الأتاسي، الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة، المادة:1467، ج:4، ص:445)


فتویٰ نمبر : 3036/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور