بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کو جماع پر معلق کرنا


سوال

ایک شوہر نے پہلے دو طلاق رجعی دی ہیں اور اب تیسری بار یہ ہوا  کہ اس کی بیوی جماع کے لیے تیار نہ ہوتی تھی 10منٹ تک چھیڑ چھاڑ کرنے کے بعدشوہر نے اپنی بیوی سے غصہ میں یہ کہا ہے کہ(کہ بیا ماتا رانزدے شوے نو تہ پہ ما طلاقہ ئے)یعنی اگر پھر میرے قریب ہوئی تو تو مجھ پر طلاق ہوگی، شوہر کا کہنا ہے کہ قربت سے میری مراد جماع تھی، نیز اس سے فی الوقت بیوی پر پریشر ڈالنا مقصود تھا یہ میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ طلاق ہمیشہ کے لیے جماع پر معلق ہو ورنہ یہ ایک طلاق باقی تھی تو پھر ہمیشہ کے لئے بغیر جماع کے بیوی رکھنے کا کیا مطلب۔ حضرات میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ یمین فور کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں؟

جواب

           جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو اس شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن اگر شوہر کی باتوں میں قرائن سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ اس نے خاص وقت میں شرط کے پائے جانے کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہے تو پھر یہ یمینِ فور ہوگی اور اسی وقت میں شرط پائے جانے کے ساتھ خاص ہوگی۔

             لہذا صورتِ مسئولہ میں بیان کے مطابق شوہر دو طلاق پہلے دے چکا ہےتو اگر اپنے اس قول"کہ بیا ماتا رانزدے شوے نو تہ پہ ما طلاقہ ئے "میں اس کی مراد ہمیشگی کی ہو کہ جب بھی بیوی سے جماع كيا  تو طلاق ہے تو اس صورت میں بیوی کے ساتھ جب بھی جماع کرے گا تو تیسری طلاق واقع ہو کر عورت اس کے لیے مغلظہ ہو جائے گی لیکن اگر شوہر کی مراد ہمیشگی نہ ہو بلکہ فی الوقت اس نے بیوی کے ساتھ جماع پر طلاق کو معلق کیا ہو تو پھر یہ یمینِ فور ہوگی اور صرف اسی وقت کے ساتھ خاص ہوگی۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك۔ (الفتاوى الهندية، الفصل الثالث في تعليق الطلاق، ج:1 ، ص:457)

(وشرطه للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب (فعلة فورا) لان قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا، ومدار الايمان عليه، وهذه تسمى يمين الفور تفرد أبو حنيفة رحمه الله بإظهارها ولم يخالفه أحد۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، باب اليمين في الدخول و الخروج والسكنى والإتيان والركوب و غير ذلك، ج:5، ص:553)


فتویٰ نمبر : 6421/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور