بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
حلالہ سے پیدا شدہ حمل ساقط کرنا
سوال
کیا شریعت مطہرہ میں حلالہ سے پیدہ شدہ حمل کو ساقط کرنی کی گنجائش ہے ؟ براہ کرم وضاحت فرمائیں ؟
جواب
واضح رہے اگر حلالہ شرعی طریقہ سے ہوا ہو تو اس سے جو حمل ٹھہرجائے اس کا حکم صحیح نکاح سے ٹھہرے ہوئے حمل کا ہے جس کا بلا ضرورت شدیدہ ساقط کرنا گناہ کبیرہ ہے تاہم اگر عورت جسمانی طور پر کمزور ہو یا پہلے سے موجود بچے کی صحت کے خراب ہونے کا قوی خطرہ ہو تو ایسی صورت میں شریعت نے اسقاط حمل کی اجازت دی ہے،بشرط یہ کہ حمل چار ماہ سے کم ہو۔
لہذا شریعت مطہرہ میں بلا ضرورت شدیدہ حمل کو ساقط کرنا گناہ کبیرہ ہے تاہم اگر عورت یا پہلے سے موجود بچے کے صحت کو قوی خطرہ ہو تو اس صورت میں شریعت نے حمل ساقط کرنے کی اجازت دی ہے۔
يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثامن عشر في التداوى:ج 5،ص 356)