بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
عذر کی وجہ سے حمل ساقط کرنا
سوال
ایک عورت نے آپریشن کے ذریعے بچہ جنا ،اس کے بعد خاتون ڈاکٹر نے کہا تھا کہ پانچ سال تک آپ بچے سے پرہیز کریں گے ورنہ آپ کی صحت بہت خراب ہوجائی گی لیکن اب حمل ٹھہر گیا ہے جب کہ عورت کا صحت اس کے متحمل نہیں ہے کیا ایسی صورت میں عورت کے لیے اسقاط حمل جائز ہے؟
جواب
واضح رہے اگر عورت جسمانی طور پر کمزور ہو یا پہلے سے موجود بچے کی صحت کے خراب ہونے کا قوی خطرہ ہوتو ایسی صورت میں شریعت نے اسقاط حمل کی اجازت دی ہے،بشرط یہ کہ حمل چار ماہ سے کم ہو۔
صورت مسؤلہ میں اگر واقعی عورت کی صحت خراب ہونے کا قوی خطرہ ہو اور کوئی صالح دیندار ڈاکٹر اسقاط حمل کا مشورہ دیدے تو چار ماہ سے کم عرصہ کا حمل ساقط کرنے کی گنجائش ہے۔
يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثامن عشر في التداوى:ج 5،ص 356)