بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
طلبا سےمالی جرمانہ وصول كرنا
سوال
مدرسہ اور اسکول میں طلباسےکسی جرم کی سزا میں مالی جرمانہ وصول کرنا جائزہےیانہیں؟
جواب
واضح رہےکہ تعزیر بالمال(مالی جرمانے)کےجواز میں فقہاءکرام کا اختلاف ہے،فقہاےاحناف میں سے اکثر فقہاے کرم کے ہاں تعزیربالمال جائز نہیں البتہ امام ابو یوسف سےاس کا جوازمنقول ہےاور موجودہ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہےکہ بعض انتظامی امور میں مالی جرمانہ مقرر کیا جائے،کیونکہ ہر مجرم کو بدنی سزا دینے سے لوگ مشقت میں پڑ جائیں گے جو تنفیر کا سبب بنے گا،اور بسا اوقت مالی سزا بدنی سزا سے ذیادہ کار امد ثابت ہوسكتا ہے، لہذا موجودہ حالات میں امام ابو یوسف کے قول سے استفادہ کرتے ہوئے جواز کی گنجائش دینا مناسب معلوم ہوتا ہے، علامہ ابن عابدین نےبزازیہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام تعزیر میں مال لے سکتا ہے لیکن خود استعمال نہیں کرسکتا بلکہ مجرم کی توبہ اور اصلاح کے بعد اس کو واپس لوٹا دے گا،اور ایک قول یہ بھی نقل کیاہے کہ امام اگر مجرم کی توبہ سے نا امید ہوجائے تو خیر کے کام میں اس کو استعمال کرے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق مدرسہ اور اسکول کے منتظمین کو طلباکے جرم کی سزا میں زجر اور تادیب کی نیت سے ان سےمالی جرمانہ وصول کرنا جائز ہے،البتہ استاد اس کو خود استعمال نہیں کرسکتا بلکہ طلباکی اصلاح کے بعد اس کو واپس لوٹا دے گا،تاہم جرمانہ کی واپسی کی وجہ سےاگر جرم کا سد باب مشکل ہو تو ایسی صورت میں اس رقم کو رفاہ عامہ میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے۔
يَجُوزُ التَّعْزِيرُ بِأَخْذِ الْمَالِ وَهُوَ مَذْهَبُ أَبِي يُوسُفَ وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ ، وَمَنْ قَالَ : إنَّ الْعُقُوبَةَ الْمَالِيَّةَ مَنْسُوخَةٌ فَقَدْ غَلِطَ عَلَى مَذَاهِبِ الْأَئِمَّةِ نَقْلًا وَاسْتِدْلَالًا وَلَيْسَ بِسَهْلٍ دَعْوَى نَسْخِهَا .
وَفِعْلُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ وَأَكَابِرِ الصَّحَابَةِ لَهَا بَعْدَ مَوْتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُبْطِلٌ لِدَعْوَى نَسْخِهَا ، وَالْمُدَّعُونَ لِلنَّسْخِ لَيْسَ مَعَهُمْ سُنَّةٌ وَلَا إجْمَاعٌ يُصَحِّحُ دَعْوَاهُمْ(معين الحكام، ص:231)
وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى.(ردالمحتار علي الدرالمختار، كتاب الحدود، باب التعزير، مطلب في التعزير باخذالمال، ج:4، ص:61)