بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حکومت کی طرف سے 65 سال سے زائد عمر والے افراد پر حج کی پابندی


سوال

سعودی عرب نے 65 سال سے زائد عمر والے افراد کے حج پر پابندی عائد کردی ہے,کیاان افراد کی طرف سےحج بدل کیاجاسکتاہے؟

جواب

         واضح رہے کہ حج ایک ایسی عبادت ہے کہ اگر آدمی خود ادا کرنے سے عاجز ہو تو دوسرا آدمی بھی اس کی طرف سے حج کا فریضہ ادا کر سکتا ہے تاہم دوسرے آدمی کو بھیجنے کی صورت میں چند شرائط کا لحا ظ رکھنا ضروری  ہے اگر یہ شرائط موجود ہوں تب ایک آدمی دوسرے کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے ورنہ نہیں،اور وہ شرائط مندر جہ ذیل ہیں:

1۔ جس کی طرف سے حج ادا کیا جا رہا ہے وہ  خود حج ادا کرنے سے عاجز ہو  اور وہ مال کا مالک ہو ۔

2۔وہ عجز موت تک قائم رہے چاہے بیماری کی وجہ سے ہو یا بڑ ھاپے  کی وجہ سے ہو یا پھر  حاکم وقت  نے منع کیا ہو،اگر موت سے پہلے عذر ختم ہو جائے تو دوبارہ  خود حج ادا کرے گا  حج بدل اس کی طرف سے کافی نہیں ہوگا۔

3۔وہ خود حج کی نیابت کا حکم دے۔

4۔احرام کے وقت نیت حج کا حکم  دینے والے  کی طرف سے حج ادا کرنے کی ہو۔

5۔حج کا  حکم دینے والے  کے مال سے  دوسرا شخص حج ادا کرے۔

            لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق اگر 65 سال سے زائد عمر والے افراد  پر حکومت کی طرف سے  حج ادا کرنے پر پابندی ہو تو ایسے شخص کی طرف سے دوسرا آدمی  حج بدل ادا کرسکتا ہے تا ہم اگر  آئندہ حکومت کی طرف سے یہ پابندی ختم ہو گئی اور یہ  شخص خود حج ادا کرنے پر قادرہو تو یہ شخص خود حج ادا کرے گا اور پہلے والا حج اس کی طرف سے کافی نہیں ہوگا،لہذا بہتر یہ  ہے کہ جب تک تندرست ہے تو انتظار کرے ہو سکتا ہے کہ حکومت کی پالیسی میں تبدیلی آجائے اور پھر خود حج کو ادا کر سکے۔

 

(العبادات ثلاثة أنواع) : مالية محضة كالزكاة وصدقة الفطر، وبدنية محضة كالصلاة والصوم، ومركبة منهما كالحج. والإنابة تجري في النوع الأول في حالتي الاختيار والاضطرار ولا تجري في النوع الثاني وتجري في النوع الثالث عند العجز.(الفتاوى الهندية،كتاب الحج،الباب الرابع عشر في الحج عن الغير،ج:1،ص:257)

ولجواز النيابة في الحج شرائط. (منها) : أن يكون المحجوج عنه عاجزا عن الأداء بنفسه وله مال... (ومنها) استدامة العجز من وقت الإحجاج إلى وقت الموت هكذا في البدائع حتى لو أحج عن نفسه وهو مريض يكون مراعى فإن مات أجزأه، وإن تعافى بطل وكذا لو أحج عن نفسه وهو محبوس... (ومنها) الأمر بالحج فلا يجوز حج الغير عنه بغير أمره... (ومنها) نية المحجوج عنه عند الإحرام... (ومنها) أن يكون حج المأمور بمال المحجوج عنه(الفتاوى الهندية،كتاب الحج،الباب الرابع عشر في الحج عن الغير،ج:1،ص:257)


فتویٰ نمبر : 9119/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور