بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وضو کے بغیر یا حالتِ جنابت میں نماز پڑھنا


سوال

 کسی شخص نے وضو کے بغیر یا حالتِ جنابت میں قصداً نماز پڑھی تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

                طہارت نماز کے لیے شرط ہے اس کے بغیر نماز پڑھنے سے نماز ادا نہیں ہوتی۔اگر کوئی شخص حالتِ جنابت (یعنی غسل واجب ہونے کی حالت میں) یا وضو کے بغیر نماز پڑھنے کو جائز اور درست سمجھتا ہے، یا دین یا نماز کے استخفاف، حقارت اور اہانت کی غرض سے ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو  ایسا شخص حکمِ شرعی سے انکار یا  اہانت و استخفاف کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اس پر تجدیدِ ایمان اور شادى شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتا، اور نہ حکمِ شرعی کی اہانت کی غرض سے ایسا کرتا ہے، بلکہ لاعلمی میں یا غلطی سے یا سستی ، کاہلی وغیرہ کی وجہ سے ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو اس سے یہ شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا،لیکن بہرحال یہ سنگین گناہ ہے اس لیے سچے دل سے توبہ تائب ہو کر آئندہ اس سے بچنے کا عزم کرنا ضروری ہے۔

 

قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب كما في الخانية۔۔۔(قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة۔۔۔لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافرا۔۔۔(قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية لا يكون كفرا، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفرا عند الكل۔۔۔أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل تأمل۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، ج:1، ص:185)


فتویٰ نمبر : 9090/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور