بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نماز جمعہ میں دوسری رکعت کے رکوع کے بعد دعا مانگنا


سوال

 میں ملائیشیا میں ہوں اور یہاں کا امام جب جمعہ کی نماز پڑھاتا ہے تو دوسری رکعت کے رکوع کے بعد ہاتھ اٹھاتا ہے اور دعا کرتا ہے اس صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ہمیں بھی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا چاہیے یا ہاتھ سیدھا چھوڑ کر خاموش کھڑا رہنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ امام شافعی رحمۃ اللہ کے مسلک پر ہیں اور یہ دعا كورونا وبا کے بعد ان لوگوں نے شروع کر دی ہے۔

جواب

             فقہ حنفی میں نماز  جمعہ  کی   دوسری رکعت میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا  ثابت نہیں ،تاہم  اگر سائل کا سوال قنوت نازلہ کے بارے میں ہو تو فقہ حنفی میں آزمائش اور مصیبت کے وقت نماز فجر کی  دوسری رکعت میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ ثابت ہے کہ امام دعا مانگے اور مقتدی اس پر آمین کہیں  اور جہاں کوئی حنفی شخص کسی  دوسرے مسلک کے امام کی اقتداکر رہاہو اور وہ نماز فجر کے علاوہ  کسی دوسری نماز میں رکوع کے بعد دعا مانگنے لگے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس صورت میں خاموش کھڑا رہے اور ہاتھ لٹکائے رکھے  اور جب امام سجدہ میں  جانے لگے تو اس کے ساتھ سجدہ میں جائے۔

 

وهو صريح في أن قنوت النازلة عندنا مختص بصلاة الفجر دون غيرها من الصلوات الجهرية أو السرية.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلوة،باب الوتر والنوافل،ج:2،ص:11)

(ويأتي المأموم بقنوت الوتر) ولو بشافعي، يقنت بعد الركوع لانه مجتهد فيه (لا الفجر) لانه منسوخ (بل يقف ساكتا على الاظهر) مرسلا يديه.(تنوير الابصار مع الدر المختار،كتاب الصلوة،باب الوتر والنوافل،ج:2،ص:1)

(قوله لأنه منسوخ) فصار كما لو كبر خمسا في الجنازة حيث لا يتابعه في الخامسة بحر.(قوله بل يقف) وقيل يقعد، وقيل يطيل الركوع، وقيل يسجد إلى أن يدركه فيه شرنبلالية (قوله مرسلا يديه) لأن الوضع سنة قيام طويل فيه ذكر مسنون، وهذا الذكر ليس بمسنون عندنا.(رد المحتار على الدر المختار،باب الوتر والنوافل،ج:2،ص:9)


فتویٰ نمبر : 9103/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور