بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ


سوال

اگر صبح کا وقت مثلا 3:30 بجے پر داخل ہوتا ہے تو کتنے وقت بعد باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے اگر 3:30 پر وقت داخل ہوا توکیا   4:30 پر نماز باجماعت ادا کرنا صحیح ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اذان اور جماعت کے درمیان وقت دینا کیسا ہے مثلا 9 بجے پر عشاء کا وقت داخل ہوا تو باجماعت نماز کس وقت کرنی چاہیے ،کیا درمیان میں وقت دینا واجب ہے؟

جواب

            اذان  کے فورًا بعد اقامت کہہ دینا مکروہ ہے اذان  اور باجماعت نماز کے درمیان دو یا چار رکعات والی نماز کا اتنا وقفہ کرنا چاہیے کہ جس کے ہر رکعت میں دس آیتیں آدمی اطمینان  سے پڑھ سکے،تاہم مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ نہ کرنا مستحب ہےاور فجر کی نماز میں اتنی تاخیر کرنا افضل ہےکہ اگر کسی وجہ سے نماز فاسد ہوجائے تودوبارہ  فجر کے وقت میں  اعادہ ہو سکے۔

          صورت مسئولہ میں اگر کسی جگہ صبح کی اذان 3:30 بجے ہوتی ہو اور باجماعت نماز 4:30 بجے پڑھی جاتی ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگ نیند سے جاگ کر اور وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر باجماعت نماز میں زیادہ تعداد میں  شریک ہوسکیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

 

ويفصل بين الأذان والإقامةمقدار ركعتين أو أربع يقرأ في كل ركعة نحوا من عشر آيات. كذا في الزاهدي والوصل بين الأذان والإقامة مكروه بالاتفاق... وأما إذا كان في المغرب فالمستحب يفصل بينهما بسكتة يسكت قائما مقدار ما يتمكن من قراءة ثلاث آيات قصار.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الفصل الثاني في كلمات الاذان والاقامة وكيفيتهم،ج:1،ص:113)

يستحب تأخير الفجر ولا يؤخرها بحيث يقع الشك في طلوعالشمس بل يسفر بها بحيث لو ظهر فساد صلاته يمكنه أن يعيدها في الوقت بقراءة مستحبة.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الفاسل الثاني في بيان فضيلة الاوقات،ج:1،ص:108)


فتویٰ نمبر : 9093/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور